ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانامریکا کا پناہ گزین افغان باشندوں کا قانونی تحفظ ختم کرنے کا...

امریکا کا پناہ گزین افغان باشندوں کا قانونی تحفظ ختم کرنے کا اعلان
ا

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں قانونی طور پر مقیم ہزاروں افغانوں کی عارضی تحفظ کی حیثیت (ٹی پی ایس) کی تجدید نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں اگلے ماہ ملک بدر کیے جانے کا خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکا کے ہوم لینڈ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ (ڈی ایچ ایس) نے جمعہ کو تصدیق کی کہ وہ افغانوں کے لیے عارضی تحفظ کی حیثیت (ٹی پی ایس) کو ختم کر دے گا، جس سے تقریباً 14 ہزار 600 افغان متاثر ہوں گے۔

ٹی پی ایس ایک قانونی تحفظ ہے جو ایسے ممالک کے شہریوں کو دیا جاتا ہے جو مسلح تنازعات، قدرتی آفات، یا دیگر غیر معمولی حالات کا سامنا کر رہے ہوں۔ یہ تحفظ انہیں جلاوطنی سے بچاتا ہے اور امریکا میں قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ نے افغانوں کے لیے پہلی بار 2022 میں ٹی پی ایس کو نامزد کیا تھا، جسے 2023 میں مزید توسیع دی گئی تھی۔ تاہم، ڈی ایچ ایس کی ترجمان ٹریسیا میک لاگلن نے جمعہ کو کہا کہ وزیر خارجہ کرسٹی نوئم نے امیگریشن حکام کے تازہ ترین جائزوں اور محکمہ خارجہ کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان اب ٹی پی ایس کے لیے قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔بائیڈن انتظامیہ نے افغانوں کے لیے پہلی بار 2022 میں ٹی پی ایس کو نامزد کیا تھا، جسے 2023 میں مزید توسیع دی گئی تھی۔ تاہم، ڈی ایچ ایس کی ترجمان ٹریسیا میک لاگلن نے جمعہ کو کہا کہ وزیر خارجہ کرسٹی نوئم نے امیگریشن حکام کے تازہ ترین جائزوں اور محکمہ خارجہ کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان اب ٹی پی ایس کے لیے قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔اس فیصلے پر امریکی فوج کے افغان اتحادیوں کی حمایت کرنے والے ایڈوکیسی گروپوں اور سابق فوجیوں کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔

اگلی منزل

یہ واضح نہیں ہے کہ ملک بدری کی صورت میں ان افغانوں کو کہاں بھیجا جائے گا، کیونکہ امریکہ کابل میں طالبان کی زیر قیادت حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور افغانستان کے لیے اس کی کوئی براہ راست پروازیں نہیں ہیں۔

ایسی صورتحال میں، جلاوطن افراد کو اکثر اسی ملک واپس بھیج دیا جاتا ہے جہاں سے وہ آخری بار امریکا آئے تھے۔ اس صورت میں، بہت سے افغانوں کی اگلی منزل پاکستان ہو گی، جو اس وقت خود غیر دستاویزی افغانوں کو ملک بدر کر رہا ہے۔

جنگ کے دوران ہزاروں افغانوں نے امریکی افواج کی مدد کی تھی، جن میں مترجم اور ٹھیکیدار بھی شامل تھے۔ بہت سے افراد کو اسپیشل امیگرنٹ ویزا (ایس آئی وی) پروگرام کے تحت یا امریکی پناہ گزینوں کے داخلے کے پروگرام کے ذریعے دوبارہ آباد کیا گیا تھا، لیکن ایک قابل ذکر تعداد اب بھی اپنے امیگریشن کیسز پر کارروائی کا انتظار کر رہی ہے۔ ان کے لیے، ٹی پی ایس نے عارضی قانونی تحفظ کے طور پر کام کیا۔

عالمی ادارہ خوراک کی امداد میں کٹوتی

افغانوں کو اب افغانستان واپس بھیجے جانے کا خطرہ ہے، جو پہلے ہی شدید انسانی اور معاشی بحرانوں کا شکار ہے۔انسانی تباہی کو کم کرنے کے لیے کام کرنے والی امدادی تنظیمیں فنڈز میں کٹوتی کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ وہ ضرورت مندوں میں سے صرف آدھے افراد کی مدد کر سکے گا کیونکہ امریکا کی جانب سے خوراک کی امداد میں تازہ کٹوتی سے افغانستان میں پہلے سے جاری بھوک میں مزید اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عالمی ادارہ خوراک کی قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر متینتا چیموکا نے عطیہ دہندگان پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی مدد کے لیے آگے آئیں، جو دنیا کے دوسرے سب سے بڑے انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کی ایک تہائی آبادی کو غذائی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ 31 لاکھ افراد قحط کے دہانے پر ہیں۔متینتا چیموکا نے کہا کہ ہمارے پاس اب جو وسائل ہیں، ان سے بمشکل 80 لاکھ افراد کو سال بھر میں امداد ملے گی اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہمیں وہ سب کچھ ملے جو ہم دوسرے عطیہ دہندگان سے توقع کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ پہلے ہی اپنے وسائل کو بڑھانے کے لیے آدھا راشن دے رہا ہے۔
دیگر امدادی اداروں کی طرح عالمی ادارہ خوراک بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فنڈنگ میں کٹوتی کے شکنجے میں پھنس گیا ہے، جنہوں نے جنوری میں اپنی حلف برداری کے فوراً بعد تین ماہ کے لیے تمام غیر ملکی امداد منجمد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔
ہنگامی غذائی امداد سے استثنیٰ دیا جانا تھا، لیکن رواں ہفتے عالمی ادارہ خوراک نے کہا تھا کہ امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان سمیت 14 ممالک کے لیے ہنگامی غذائی امداد میں کٹوتی کر رہا ہے۔واشنگٹن نے فوری طور پر 6 ممالک کے لیے کٹوتی سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا، لیکن افغانستان، جو طالبان حکام کے زیر انتظام ہے، ان ممالک میں شامل رہا۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن یو این اے ایم اے نے رواں ہفتے بین الاقوامی عطیہ دہندگان پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی حمایت جاری رکھیں اور کہا کہ اس سال 2 کروڑ 29 لاکھ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کی ریزیڈنٹ اور ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر اندریکا رتوٹے نے کہا ہے کہ "اگر ہم افغان عوام کو غربت اور مصائب کے شیطانی چکر سے نکلنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں فوری ضروریات کو پورا کرنے کے وسائل جاری رکھتے ہوئے طویل مدتی لچک اور استحکام کی بنیاد بھی رکھنی ہوگی۔”






مقبول مضامین

مقبول مضامین