ٹرمپ انتظامیہ نے ایک پرانے امیگریشن قانون کو دوبارہ نافذ کر دیا ہے جس کے تحت امریکہ میں 30 دن سے زائد قیام کرنے والے تمام غیر ملکیوں کو وفاقی حکام کے ساتھ رجسٹریشن کرانا لازم قرار دیا گیا ہے۔ یہ ہدایت ’ایلین رجسٹریشن ایکٹ‘ کے تحت جاری کی گئی ہے، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں ایگزیکٹو آرڈر 14159 کے ذریعے دوبارہ فعال کیا۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ تمام غیر ملکی افراد، خواہ ان کا امیگریشن درجہ کچھ بھی ہو، انہیں 11 اپریل تک رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر وہ جرمانے یا قید کی سزا کا سامنا کر سکتے ہیں۔ نوم نے کہا، ’’صدر ٹرمپ اور میرا پیغام ان تمام افراد کے لیے واضح ہے جو غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم ہیں: فوراً ملک چھوڑ دیں۔ ہم امیگریشن سے متعلق تمام قوانین کو بلا امتیاز نافذ کریں گے۔‘‘
یہ حکم نامہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد "امریکی عوام کو بیرونی دراندازی سے تحفظ فراہم کرنا” ہے۔ اس ضمن میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے رجسٹریشن کے عمل کو لازم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جو غیر ملکی 11 اپریل تک امریکہ میں 30 دن یا اس سے زیادہ قیام کر چکے ہوں، وہ فوری طور پر امیگریشن حکام کے پاس رجسٹریشن کرائیں۔ اسی طرح 11 اپریل کے بعد امریکہ میں داخل ہونے والے افراد کو آمد کے 30 دن کے اندر اندراج کرانا ہوگا۔ چودہ برس کی عمر کو پہنچنے والے بچوں کے لیے ازسرنو رجسٹریشن اور فنگر پرنٹس دینا ضروری ہوگا، جبکہ 30 دن سے زائد قیام کرنے والے نابالغ بچوں کی رجسٹریشن کی ذمہ داری والدین یا سرپرستوں پر عائد ہوگی۔
رجسٹریشن کے بعد محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے ایک سرکاری دستاویز جاری کی جائے گی، جسے 18 سال یا اس سے زائد عمر کے تمام غیر ملکیوں کے لیے ہر وقت ہمراہ رکھنا قانونی طور پر ضروری قرار دیا گیا ہے۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آخری تاریخ کے بعد اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا اور اس ضمن میں کسی کو استثنا حاصل نہیں ہوگا۔
اب امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار، حتیٰ کہ ٹریفک پولیس بھی، کسی بھی شخص سے اس کی امیگریشن رجسٹریشن کا ثبوت طلب کرنے کی مجاز ہوگی۔ کینیڈا سے امریکہ آنے والے افراد پر بھی یہی قانون لاگو ہوگا، بشرطیکہ ان کے پاس پہلے سے I-94 داخلہ ریکارڈ نہ ہو۔ زمین یا فیری کے ذریعے داخل ہونے والے کینیڈین شہریوں کو یہ دستاویز حاصل کرنا ہوگی، جس کی فیس 6 ڈالر مقرر ہے، اور اسے سرحد پر پہنچنے سے قبل بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مسافر یہ عمل ’سی بی پی ون‘ موبائل ایپ کے ذریعے بھی مکمل کر سکتے ہیں۔
1940 میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران نافذ کیا جانے والا ’ایلین رجسٹریشن ایکٹ‘ اب ایک بار پھر فعال کیا جا رہا ہے، جبکہ ملک میں امیگریشن پالیسی اور سرحدی سیکیورٹی پر سیاسی و عوامی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے 20 جنوری 2025 کو جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کو ملک کے امیگریشن نظام میں نظم و نسق قائم کرنے کی ہدایت دی گئی، جس کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط کرنا اور امیگریشن عمل میں جوابدہی بحال کرنا ہے۔
اگرچہ حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس وقت کتنے غیر ملکی اس حکم نامے کی زد میں آ رہے ہیں، لیکن انہوں نے زور دیا کہ یہ قانون تمام افراد پر لاگو ہوگا، چاہے وہ ویزا کی مدت سے تجاوز کر چکے ہوں، پناہ کے متلاشی ہوں یا غیر دستاویزی باشندے۔ ادھر انسانی حقوق کی کئی تنظیموں، جن میں کوئلیشن فار ہیومین امیگرنٹ رائٹس اور امریکن امیگریشن کونسل شامل ہیں، نے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کیا، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ اس حکم نامے کو عوامی مشاورت کے بغیر نافذ کیا گیا ہے، جو ’ایڈمنسٹریٹو پروسیجر ایکٹ‘ کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹریور این مک فیڈن نے درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کو اس معاملے میں قانونی حیثیت حاصل نہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس قانون کے نفاذ کے لیے 1940 کے ’ایلین رجسٹریشن ایکٹ‘ کو قانونی بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس ضمن میں DHS کی سربراہ نوم کا کہنا تھا، ’’اگر آپ ابھی ملک چھوڑ دیں تو شاید آپ کو دوبارہ داخلے کا موقع دیا جائے۔‘‘
امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ جن افراد کے پاس درست امریکی ویزے، گرین کارڈ، I-94 فارم یا ورک پرمٹ موجود ہیں، وہ پہلے ہی رجسٹرڈ تصور ہوتے ہیں۔ تاہم ان کے لیے بھی یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ ہر وقت رجسٹریشن کا ثبوت اپنے ہمراہ رکھیں، اور اگر ان کا پتہ تبدیل ہو تو وہ 10 دن کے اندر اس کی اطلاع دیں، بصورتِ دیگر انہیں پانچ ہزار ڈالر تک جرمانہ، مختصر قید یا امیگریشن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس قانون کے اچانک نفاذ سے خاص طور پر طلبہ اور عارضی ویزا رکھنے والے افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی اور امیگریشن کنٹرول کے پیشِ نظر سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔

