ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانداسو منصوبے کی لاگت 17 کھرب روپے تک جا پہنچی

داسو منصوبے کی لاگت 17 کھرب روپے تک جا پہنچی
د

حکومت نے 240 فیصد اضافے کے باوجود منصوبہ منظور کر لیا، واپڈا سے وضاحت طلب

اسلام آباد:
حکومت نے جمعہ کے روز داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (مرحلہ اول) کی ترمیم شدہ لاگت کو 17 کھرب روپے یا 6.2 ارب ڈالر کے ساتھ منظوری کے لیے سفارش کی ہے، جو ملک کی تاریخ کا مہنگا ترین پن بجلی منصوبہ بن چکا ہے۔ منصوبے کی لاگت میں 240 فیصد کے غیرمعمولی اضافے نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

منصوبے کی ابتدائی لاگت میں 13 کھرب روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں فی یونٹ بجلی کی قیمت اب 8.79 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پن بجلی کو سستا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے، مگر اب یہ منصوبہ ملک کا سب سے مہنگا ہائیڈرو منصوبہ بن چکا ہے، جسے مکمل کرنے کے لیے مزید غیر ملکی قرضوں کی ضرورت پڑے گی۔

منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے ترمیم شدہ منصوبے پر غور کیا اور اسے چند شرائط کے ساتھ ایکنک کو بھیج دیا۔ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق وزیر نے منصوبے کی لاگت 479 ارب روپے سے بڑھا کر 1.73 کھرب روپے کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور واپڈا سے اس بابت وضاحت طلب کی۔

وزیر نے منصوبے کی ترمیم شدہ پی سی ون میں شامل لاگت کے غیر معمولی اضافے کی تیسری فریق سے توثیق کا حکم دیا۔ منصوبہ 2014 میں 486 ارب روپے کی لاگت سے منظور ہوا تھا، جس میں فی میگاواٹ لاگت 23 کروڑ 60 لاکھ روپے تھی، جو اب بڑھ کر 80 کروڑ 40 لاکھ روپے فی میگاواٹ ہو گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں تربیلا پنجم منصوبے کی فی میگاواٹ لاگت صرف 14 کروڑ 80 لاکھ روپے تھی۔

احسن اقبال نے لاگت میں اضافے کا ذمہ دار پچھلی حکومت کے دوران تاخیر اور بدانتظامی کو قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایکنک کی ہدایت کے باوجود واپڈا نے 3 ارب روپے سے زائد کے منصوبے کے لیے علیحدہ فل ٹائم پراجیکٹ ڈائریکٹر تعینات نہیں کیا، نہ ہی منصوبے کے لیے کوئی پیشہ ور چیف فنانس آفیسر موجود ہے۔

وزیر نے اس پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ واپڈا نے 66 کلومیٹر طویل قراقرم ہائی وے کے ایک حصے کی تعمیر کا ٹھیکہ غیر ملکی کرنسی میں دیا، جس پر واپڈا تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ انہوں نے اس عمل کو "مجرمانہ غفلت” قرار دیا۔

واپڈا نے منصوبے میں متعدد ڈیزائن تبدیلیاں اور اخراجات کی منظوری سی ڈی ڈبلیو پی اور ایکنک سے لیے بغیر کیں۔ وزیر نے ان تمام نکات پر واپڈا سے وضاحت طلب کی ہے۔ تاہم، منصوبے کی قومی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہوں نے منصوبے کو مشروط طور پر ایکنک کو بھیجنے کی منظوری دی۔

داسو منصوبہ پاکستان کے آبی اور غذائی تحفظ کے لیے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ سی ڈی ڈبلیو پی کو بتایا گیا کہ 2,160 میگاواٹ صلاحیت کے حامل مرحلہ اول کی لاگت میں اضافے کے باعث اب حکومت کو مزید غیر ملکی اور مقامی قرضوں کی ضرورت ہے۔ واپڈا اس وقت عالمی بینک سے ایک ارب ڈالر کے نئے قرض کے لیے بات چیت کر رہا ہے، جس میں مہنگے اور رعایتی دونوں اقسام کے قرض شامل ہوں گے۔ عالمی بینک اس سے قبل منصوبے کے لیے 517 ملین ڈالر فراہم کر چکا ہے۔

مزید یہ کہ حکومت عالمی بینک کی گارنٹی کے تحت 400 ملین ڈالر کا کمرشل قرض بھی حاصل کرے گی، جبکہ 350 ارب روپے مقامی کمرشل بینکوں سے قرض لیا جائے گا۔ واپڈا 289 ارب روپے بطور ایکوئٹی فراہم کرے گا، جس میں سے 191 ارب روپے منصوبے کی لاگت کے لیے اور 98 ارب روپے دوران تعمیر سود کی مد میں پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں۔

ڈیم کی اونچائی 242 میٹر ہو گی اور اس میں رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ استعمال ہو گی، جس کی توثیق ماہرین کے پینل اور مشیروں نے کی ہے۔ پاور ہاؤس دریائے سندھ کے بائیں کنارے ایک زیر زمین سرنگ میں قائم کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دریائے سندھ کے آبی وسائل کی بہتر مینجمنٹ اور سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کو فروغ دینا ہے۔

2013-14 سے پی سی ون کے تحت اخراجات کا آغاز ہوا اور اب تک 317 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ منصوبہ پانچ سال میں مکمل ہونا تھا، تاہم زمین کے حصول اور دائرہ کار میں اضافے کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی اور اب تکمیل کی متوقع تاریخ 2029 ہے۔

منصوبے کا دوسرا ترمیم شدہ پی سی ون زمین کے حصول، متاثرین کی آبادکاری اور قبل از تعمیر سرگرمیوں جیسے دائیں کنارے کی سڑک، قراقرم ہائی وے کی منتقلی، عملے کی رہائشی کالونی اور 132 کے وی کی ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر سمیت دیگر امور پر مشتمل ہے۔

اب تک مرکزی پن بجلی ڈھانچے، اسپل وے، آؤٹ لیٹس، دریائی نظام اور ہائیڈرولک اسٹرکچرز کا 23.6 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ زیر زمین پاور کمپلیکس، سرنگوں اور اسٹیل اسٹرکچرز کا صرف 15 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین