رائے
بلوچستان میں ترقیاتی اقدامات: مقامی افراد کو نظر انداز نہ کیا جائے
بلوچستان میں جاری انفرا اسٹرکچر کے بڑے منصوبے بلاشبہ خوش آئند ہیں۔ گوادر میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تعمیر اور کوئٹہ-ژوب، کوئٹہ-گوادر شاہراہوں کی اپ گریڈیشن سے نہ صرف صوبے کی تجارتی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ پورے خطے کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم یہ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ان منصوبوں کا اصل فائدہ کسے پہنچے گا؟ کیا بلوچستان کے عوام بھی ان ترقیاتی سرگرمیوں کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں گے یا ہمیشہ کی طرح غیر ملکی سرمایہ کار ہی اصل نفع سمیٹیں گے؟
گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو کہ اب پاکستان کے سب سے بڑے ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے، 246 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے ہوائی آمد و رفت میں سہولت، سیاحت کے فروغ اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اسی طرح کوئٹہ-ژوب اور کوئٹہ-گوادر شاہراہیں بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں اور وسطی ایشیا سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
لیکن محض انفرا اسٹرکچر کی بہتری ترقی کا ضامن نہیں۔ حقیقی کامیابی اس وقت ممکن ہے جب ان منصوبوں میں بلوچستان کے عوام کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، اور مقامی کاروباروں کو فروغ دینے کے لیے جامع پالیسیاں مرتب کی جائیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ ترقیاتی منصوبے اسی وقت مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب ان کے فوائد مقامی سطح پر محسوس کیے جائیں۔
بلوچستان، جس کے 40 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، اب بھی پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔ اگر ترقی کے موجودہ منصوبے بھی ماضی کی طرح صرف مخصوص طبقات یا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئے، تو اس سے صوبے میں محرومی کا احساس مزید بڑھے گا۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں بلوچستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو ترجیح دی جائے۔ اس وقت بلوچستان میں SMEs کو باضابطہ مالی سہولیات حاصل ہونے کی شرح صرف 5 فیصد ہے جبکہ پنجاب میں یہ شرح 17 فیصد ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ تمام ترقیاتی منصوبوں میں لازمی قرار دیا جائے کہ کم از کم 30 فیصد افرادی قوت مقامی مزدوروں پر مشتمل ہو۔ موجودہ وقت میں ٹیوٹا بلوچستان ہر سال 10,000 افراد کو تربیت فراہم کر رہا ہے، لیکن تیزی سے بدلتی صنعتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تعداد میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے۔
ترقی کا محور صرف کوئٹہ یا گوادر جیسے شہری مراکز نہیں ہونا چاہیے بلکہ دیہی علاقوں تک بھی اس کے فوائد پہنچنے چاہئیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ دیہی علاقوں میں صنعتی زون قائم کرے، چھوٹے شہروں کو تجارتی نیٹ ورک سے جوڑے اور جامع دیہی ترقیاتی پالیسی وضع کرے تاکہ بلوچستان میں ترقی کا عمل واقعی ہمہ گیر اور پائیدار بن سکے۔
بلوچستان کے لیے جاری ترقیاتی منصوبے ایک نادر موقع فراہم کرتے ہیں جس سے پورا صوبہ علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ لیکن اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ناگزیر ہے کہ ترقی کے ہر قدم میں عوام کو شریک کیا جائے، ان کے مسائل کو سمجھا جائے اور پالیسی سازی میں ان کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو بلوچستان کو روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

