انصار اللہ کے سربراہ السید عبدالملک الحوثی نے یمن پر امریکی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے فلسطین کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
جمعرات کے روز اپنے خطاب میں السید عبدالملک الحوثی نے کہا کہ امریکہ یمن کی عسکری طاقت کو کمزور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا: "امریکی ہماری عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے اور نہ ہی ہو سکیں گے۔ امریکی جارحیت کا نتیجہ صرف اور صرف ان صلاحیتوں میں مزید بہتری اور ترقی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی عسکری بنیادیں نظریاتی اصولوں اور گہری مزاحمت پر قائم ہیں، اس لیے امریکہ کی سیاسی اور عوامی دباؤ کی کوششیں بھی یمن کے استحکام کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حملے دراصل شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر یمن کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہیں۔
فلسطینیوں کے ساتھ مضبوط محاذ
انصار اللہ کے رہنما نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ "فتح موعود اور مقدس جہاد کی جنگ” نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کا اثر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "امریکی جارحیت ناکام تھی، ناکام ہے اور ناکام ہی رہے گی۔”
انہوں نے کہا کہ یمنی فوجی کارروائیاں مؤثر اور طاقتور ہیں، اور اسرائیلی بحری راستوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: "ایلات بندرگاہ ویران پڑی ہے، اور اسرائیلی دشمن اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر پا رہا—یہ یمن کے مؤقف کی بڑی کامیابی ہے۔”
السید الحوثی نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کو بے مثال مظالم کا سامنا ہے، جن میں قتل عام، بھوک اور ہمہ جہتی اذیت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں پیدا شدہ سانحہ کی شدت تمام مسلمانوں پر مشترکہ ذمے داری عائد کرتی ہے۔
اسرائیلی منصوبہ: فلسطینی کاز کا خاتمہ
السید الحوثی نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل غزہ کے شہریوں کو کامیابی سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ عمل مغربی کنارے تک پھیل سکتا ہے، جہاں فلسطینیوں کی بتدریج بے دخلی پہلے ہی جاری ہے۔ ان کے مطابق، صیہونی قوتیں فلسطینی کاز کے تمام پہلوؤں کو مٹانے پر تُلی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "امریکہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے منصوبے کی کھلی حمایت کر رہا ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اس منصوبے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔”
انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے میں مزاحمتی جنگجوؤں کی کارروائیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہی وہ درست راستہ ہے جس کے ذریعے فلسطینی اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں۔
السید الحوثی نے کہا کہ فلسطینیوں کی مشکل ترین صورت حال کے باوجود، مزاحمتی جنگجو مسلسل راکٹ حملے کر رہے ہیں، جو ان کے پختہ عزم اور اپنی جدوجہد کی صداقت پر ایمان کی علامت ہے۔
انہوں نے فلسطینی قیدیوں کے مسئلے کو بھی بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ "قیدیوں کا معاملہ فلسطینی عوام کے بنیادی مسائل میں شامل ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔”
امتِ مسلمہ کے خلاف مشترکہ مہم
السید عبدالملک الحوثی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ لبنانی اور شامی اقوام کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، پوری عرب قوم ایک مشترکہ جارحیت کا سامنا کر رہی ہے، جسے واشنگٹن کھلے عام اسرائیلی جرائم کی پشت پناہی فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "سرنڈر کرنے کا راستہ فلسطینیوں، ان کے ہمسایہ ممالک، یا پوری عرب دنیا کے لیے سودمند نہیں۔ صرف مسلح مزاحمت ہی اسرائیلی قبضے اور اس کے حامیوں، خصوصاً امریکہ، کا مؤثر جواب ہے۔”
السید الحوثی نے بتایا کہ اسرائیل لبنان کے ساتھ اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، مختلف علاقوں پر حملے کر رہا ہے، اور حماس و حزب اللہ کے مزاحمتی جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے شام کے تناظر میں کہا کہ اسرائیلی جرائم اس کی توسیع پسندانہ سوچ کو عیاں کرتے ہیں، جو شام کو محض اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "اسرائیل شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اب اس نے عراق کی فضائی حدود کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، اور وہ اس دائرہ کار کو مزید وسعت دے گا۔”
ٹرمپ کی "بیوقوفانہ” پالیسیوں پر تنقید
السید عبدالملک الحوثی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ اقتصادی پالیسیوں کو عالمی سطح پر افراتفری کے عکاس قرار دیا اور انہیں "بیوقوفانہ” اور "لالچ پر مبنی” پالیسیاں کہا۔
انہوں نے کہا کہ "ٹرمپ نے 60 سے زائد ممالک، جن میں امریکہ کے اتحادی بھی شامل ہیں، کے خلاف تجارتی جنگ چھیڑ دی ہے۔ ان کے فیصلے اتنے غیر منظم ہیں کہ خود امریکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔”

