غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کا دوسرا مرحلہ جاری ہے، جس کی تکمیل میں چند گھنٹے باقی ہیں۔
اس مرحلے کے تحت ہفتے کے روز حماس کی جانب سے چار اسرائیلی خاتون فوجیوں کو رہا کیے جانے کی توقع ہے، جس کے بدلے میں اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے گا۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ مزاحمتی تحریک ہفتے کو چار اسرائیلی خاتون قیدیوں کو رہا کرے گی۔
ان قیدیوں کے نام لِری الباغ، کارینا آرییف، ڈینیئل گلبوع اور نعما لیوی بتائے گئے ہیں، جن کی رہائی "طوفانِ الاقصیٰ” معاہدے کے تحت عمل میں آئے گی۔ یہ معاہدہ 19 جنوری 2025 سے نافذ العمل ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر نے بھی ثالثوں کے ذریعے موصول ہونے والی قیدیوں کی فہرست کی تصدیق کی ہے۔ دفتر کے مطابق، "اسرائیل اس فہرست پر اپنا ردِعمل بعد میں دے گا”۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت پہلے روز تین اسرائیلی خاتون قیدیوں کو فلسطینی مزاحمت نے رہا کیا، جس کے بدلے میں اسرائیل نے 90 فلسطینی خواتین اور بچوں کو جیلوں سے آزاد کیا۔
زکریا زبیدی اور احمد مناصرہ کی رہائی متوقع
الجزیرہ کے نامہ نگار کے مطابق آج تقریباً 200 فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے، جن میں سے بعض کو دیگر ممالک میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
رہائی پانے والوں میں زکریا زبیدی بھی شامل ہیں۔ نامہ نگار نے اطلاع دی کہ قابض افواج نے ان کے خاندان کے مغربی کنارے میں واقع گھر پر چھاپہ مارا اور رہائی کا جشن نہ منانے کی دھمکی دی۔
اس کے علاوہ، احمد مناصرہ کی رہائی بھی متوقع ہے، جنہیں بچپن میں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
آج کئی معروف فلسطینی قیدیوں کی اسرائیلی جیلوں سے رہائی متوقع ہے، جن میں احمد مناصرہ اور "آپریشن فریڈم ٹنل” کے ہیرو زکریا زبیدی شامل ہیں۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے تین مراحل پر مشتمل پہلے مرحلے کی مدت چھ ہفتے رکھی گئی ہے، جس میں 33 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 1900 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا جانا ہے۔
معاہدے کے پہلے دن فلسطینی مزاحمت نے تین اسرائیلی خاتون قیدیوں کو رہا کیا، جب کہ اسرائیل نے 90 فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کیا۔

