ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانورچوئل اثاثہ جات کی ریگولیشن کیلئے پاکستان کا پہلا پالیسی فریم ورک...

ورچوئل اثاثہ جات کی ریگولیشن کیلئے پاکستان کا پہلا پالیسی فریم ورک تیار
و

اسلام آباد: پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات (VAs) اور ان سے منسلک خدمات فراہم کرنے والے اداروں (VASPs) کے لیے اپنا پہلا جامع پالیسی فریم ورک تیار کرلیا ہے، جو بین الاقوامی مالیاتی سالمیت کے معیارات سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر ذمہ دار ڈیجیٹل ترقی کے فروغ کی غمازی کرتا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ فریم ورک نیشنل ورکنگ گروپ نے تیار کیا، جسے وزارت خزانہ نے جنوری 2024 میں اینٹی منی لانڈرنگ/کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیررازم (AML/CFT) اتھارٹی کی مجموعی نگرانی میں تشکیل دیا تھا۔ اس گروپ کی قیادت وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کر رہا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU)، ایف بی آر، نیکٹا، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر سرکاری و نجی اداروں کے اعلیٰ سطحی نمائندگان اس کا حصہ ہیں۔

ایف آئی اے کی ڈائریکٹر سمیرا اعظم نے اس پیشرفت کو پاکستان کے ڈیجیٹل فنانس کے منظرنامے میں ایک "نقطۂ انقلاب” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، "ہم کھلی آنکھوں سے مستقبل کا استقبال کر رہے ہیں۔ مجوزہ پالیسی، تکنیکی ترقی اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے مابین ایک محتاط توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فریم ورک ایف اے ٹی ایف کی سفارش نمبر 15 سے مکمل مطابقت رکھتا ہے، جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے AML/CFT کے تحت پاکستان کی عالمی وابستگی کو اجاگر کرتا ہے۔

پالیسی کا بنیادی مقصد ورچوئل اثاثہ جات سے جڑے مالیاتی خطرات، بشمول منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی امداد اور مالیاتی عدم استحکام، سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ بلاک چین ٹیکنالوجی کی حامل مالیاتی اختراعات کو فروغ دینا ہے۔

نیشنل ورکنگ گروپ کی تجویز کردہ حکمتِ عملی ایک بتدریج اور لچکدار ریگولیٹری نقطۂ نظر پر مبنی ہے، جو ادارہ جاتی صلاحیت سازی کے ساتھ ساتھ کنٹرول شدہ ماحول میں اختراعات کی آزمائش کی اجازت دیتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین