ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیامریکہ سامی مخالف سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر ویزا اور گرین...

امریکہ سامی مخالف سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر ویزا اور گرین کارڈ دینے سے انکار کرے گا
ا

خوش آمدید

امریکی امیگریشن حکام نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لیں گے اور ان افراد کو ویزا یا رہائشی پرمٹ دینے سے انکار کریں گے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے مطابق سامی مخالف (یہود مخالف) مواد پوسٹ کرتے ہیں۔

ان پوسٹس کو سامی مخالف قرار دیا جائے گا جن میں ان تنظیموں کی حمایت شامل ہو جنہیں امریکہ دہشت گرد گروہ قرار دے چکا ہے، جیسے کہ حماس (فلسطین)، حزب اللہ (لبنان) اور حوثی باغی (یمن)۔یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ میں موجود کئی طلباء کے ویزے منسوخ کر دیے، حالانکہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔محکمہ داخلہ کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے واضح کیا ہے کہ "جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امریکہ آ کر پہلی ترمیم کا سہارا لے کر سامی مخالف تشدد اور دہشت گردی کی حمایت کر سکتے ہیں — وہ دوبارہ سوچیں۔ آپ یہاں خوش آمدید نہیں ہیں،” ترجمان ٹریشا میک لافلن نے ایک بیان میں کہا۔امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (USCIS) نے کہا کہ اگر کسی غیر ملکی کا سوشل میڈیا مواد یہ ظاہر کرے کہ وہ سامی مخالف دہشت گردی، دہشت گرد تنظیموں یا دیگر سامی مخالف سرگرمیوں کی حمایت کرتا ہے، تو یہ امیگریشن فوائد کے حصول میں منفی عنصر سمجھا جائے گا۔یہ پالیسی فوراً نافذ العمل ہو گئی ہے اور طلباء کے ویزوں اور امریکہ میں مستقل رہائش (گرین کارڈ) کی درخواستوں پر لاگو ہو گی۔وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ ماہ کے آخر میں کہا کہ انہوں نے اب تک تقریباً 300 افراد کے ویزے منسوخ کیے ہیں، اور یہ عمل روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔روبیو نے کہا کہ غیر امریکی شہریوں کو امریکیوں جیسے حقوق حاصل نہیں ہوتے اور یہ فیصلہ ججوں کا نہیں بلکہ ان کا اپنا اختیار ہے کہ ویزا دیا جائے یا نہیں۔
کئی افراد جن کے ویزے منسوخ کیے گئے، ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی یہود دشمنی کا اظہار نہیں کیا، بلکہ وہ صرف ایسے احتجاجی مظاہروں کے مقام پر موجود تھے جن کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا۔سب سے نمایاں ڈیپورٹیشن کیس محمود خلیل کا ہے، جنہوں نے نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں احتجاج کی قیادت کی۔ انہیں ملک بدری کی کارروائی سے پہلے لوزیانا منتقل کر دیا گیا، حالانکہ وہ امریکہ کے مستقل رہائشی تھے۔ٹرمپ انتظامیہ نے ان یونیورسٹیوں سے بھی لاکھوں ڈالر کی وفاقی فنڈنگ واپس لے لی ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے غزہ تنازع کے دوران ہونے والے احتجاجات کے دوران سامی دشمنی کے خلاف مؤثر ردعمل نہیں دیا۔



مقبول مضامین

مقبول مضامین