آیت اللہ خامنہ ای فرماتے ہیں:
امریکہ کی ایران سے "بات چیت” کی پیشکش صرف ایک دکھاوا ہے، جس کا مقصد دنیا کی رائے کو دھوکہ دینا ہے۔ وہ خود کو امن پسند ظاہر کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ایران کو ضدی اور سخت گیر دکھایا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر بات چیت کا مقصد پابندیاں ختم کرنا ہو، تو موجودہ امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت الٹا دباؤ میں اضافے اور پیچیدگیوں کا باعث بنے گی، نہ کہ مسائل کے حل کا۔ ایسی بات چیت، اصل میں، دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بنے گی، نہ کہ راہِ نجات۔ امریکہ کی ایران سے "بات چیت” کی دعوت ایک چال ہے، حل نہیں۔ پابندیاں نہ صرف برقرار رہیں گی بلکہ دباؤ بڑھتا جائے گا۔ – آیت اللہ خامنہ ای
امریکہ کی پابندیوں کا نظام اور ایران کی حکمت عملی
امریکہ کے سیاسی نظام میں صدر کے پاس وہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ خود سے اقتصادی پابندیاں ختم کر دے، کیونکہ بیشتر پابندیاں امریکی کانگریس کے بنائے گئے قوانین کے تحت لاگو ہوتی ہیں۔ اگر ان پابندیوں کو معطل یا ختم کرنا ہو، تو کانگریس کی منظوری ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حتیٰ کہ اگر امریکی صدر ایران سے مذاکرات پر آمادہ بھی ہوں، تب بھی وہ ایران کی بنیادی شرط — پابندیوں کا مکمل خاتمہ — پوری نہیں کر سکتے۔آیت اللہ خامنہ ای نے بارہا اس نکتے پر زور دیا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ پابندیوں کے خاتمے کے لیے ماضی میں مذاکرات کیے، لیکن نتائج مایوس کن رہے کیونکہ فیصلہ کن طاقت — یعنی کانگریس — نہ صرف مخالفت میں ہے بلکہ پابندیوں میں اضافے کی سمت بڑھ رہی ہے۔کانگریس کی سوچ کا اندازہ نتن یاہو کی تقریر سے بھی لگایا جا سکتا ہے، جہاں کانگریس نے انہیں بارہا کھڑے ہو کر داد دی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی قانون ساز ادارہ ایران کے خلاف سخت موقف رکھتا ہے، جو کسی بھی سودمند معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
🔹 ٹرمپ اور پابندیاں: سیاسی تضاد
ٹرمپ کا مؤقف بھی قابل غور ہے۔ وہ مسلسل بائیڈن پر تنقید کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے ایران پر مؤثر پابندیاں نہیں لگائیں اور ایران کو "امیر” بنا دیا۔ ایسے شخص سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اقتدار میں آ کر پابندیاں کم کرے گا، تضاد ہے۔ ٹرمپ کا طرزِ عمل پابندیوں میں مزید شدت کی نشاندہی کرتا ہے۔
🔹 بات چیت سے پابندیاں کیوں بڑھتی ہیں؟
جب ایران مذاکرات کی آمادگی ظاہر کرتا ہے، تو امریکی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ اور جب کسی پالیسی کو کامیاب سمجھا جائے، تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا، بلکہ مزید بڑھایا جاتا ہے۔ یہی تجربہ جوہری معاہدے کے دوران ہوا، جب ایران نے خیرسگالی کا مظاہرہ کیا، لیکن بدلے میں مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
رہبر انقلاب نے اسی پس منظر میں کہا تھا:
"ہم بات چیت نہیں کریں گے۔ وجہ؟ تجربہ!”
آپ کا فراہم کردہ اقتباس بہت مؤثر اور گہری سیاسی بصیرت پر مبنی ہے، جس میں رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کی حکمت عملی، ایران کا تجربہ، اور امریکہ کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی پر تنقید تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔
نیچے اسی پیغام کو ایک مربوط، سادہ، اور ادبی لہجے میں ریفریمنگ (دوبارہ تحریر) کیا گیا ہے تاکہ عام قارئین، تجزیہ نگار یا سوشل میڈیا کے لیے زیادہ قابلِ فہم اور بامعنی ہو:
🔹 پابندیوں کا تجربہ اور رہبر انقلاب کی حکمت عملی
حسن روحانی کی حکومت نے مذاکرات کے ہر ممکن دروازے کھولے، نرمی اور رعایتیں بھی دیں، لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ نہ صرف پابندیاں ختم نہ ہو سکیں، بلکہ ان میں اضافہ ہوا۔ یہاں تک کہ جس شخص نے مذاکرات کی قیادت کی، وہ خود بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ گیا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کی جانب سے بات چیت کا مقصد پابندیوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ اپنی مرضی مسلط کرنا ہوتا ہے۔
🔹 پابندیاں کیوں بڑھتی ہیں؟
ہر بار جب ایران مذاکرات کی آمادگی دکھاتا ہے، امریکہ میں یہ تاثر جڑ پکڑتا ہے کہ دباؤ کی پالیسی کامیاب ہو رہی ہے۔ اسی تاثر کی بنیاد پر وہ دباؤ میں نرمی کے بجائے مزید شدت لاتے ہیں۔ نتیجتاً، ایران کو مزید پیچیدہ اور سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
🔹 حل کیا ہے؟
رہبر انقلاب کا دوٹوک جواب ہے:
"پابندیوں کو بے اثر بنانے کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔”
یہ وہ راستہ ہے جو ماضی میں کارگر ثابت ہوا، اور جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسائل کا حل بیرون ملک سے نہیں، بلکہ اندرونی وسائل اور قومی خودانحصاری سے آتا ہے۔
🔹 امریکہ سے مذاکرات = تسلیم کرنا، حل نہیں
امریکہ سے بات چیت کا مطلب صرف ان کی شرائط ماننا ہوتا ہے، کیونکہ وہ رعایت دینے نہیں آتے، بلکہ لینے آتے ہیں۔ وہ "بات چیت” کو بھی ایک دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
🔹 ایران کی فوجی طاقت: ایک بازدار قوت
ایران کی مضبوط فوجی صلاحیت وہ رکاوٹ ہے جو امریکہ کو کسی براہِ راست جارحیت سے روکے ہوئے ہے۔ اگر یہ طاقت کمزور پڑی تو امریکہ حملے میں ہچکچاہٹ نہیں کرے گا۔ پس، دفاعی طاقت صرف ایک عسکری ضرورت نہیں بلکہ قومی سلامتی کی بنیادی ضمانت ہے۔

