ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیسرد جنگ کے بعد کی دنیا اور چین-امریکہ کشمکش

سرد جنگ کے بعد کی دنیا اور چین-امریکہ کشمکش
س

1991 میں سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد، امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا۔ سیاسی، اقتصادی، عسکری اور تکنیکی طور پر اس کا کوئی مقابل نہ تھا۔ مگر وقت کے ساتھ، چین ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرا اور امریکی بالادستی کے لیے خطرہ بن گیا۔

چونکہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں، اس لیے براہِ راست فوجی تصادم ممکن نہیں۔ یوں ایک نئی قسم کی جنگ شروع ہو چکی ہے — اقتصادی، تجارتی، مالیاتی اور تکنیکی میدانوں میں۔ یہ جنگ شدید بھی ہے اور طویل بھی۔

امریکہ چین کے ساتھ عالمی اثر و رسوخ بانٹنے کو تیار نہیں، اور چین بھی امریکہ کی قیادت ماننے سے انکاری ہے۔

امریکی بالادستی کے تین ستون:

  1. معاشی غلبہ: جس کی بنیاد ڈالر کی بالادستی اور تجارتی و صنعتی برتری پر ہے۔
  2. فوجی طاقت: روایتی اور ایٹمی دونوں سطح پر۔
  3. علمی و تکنیکی برتری: خاص طور پر مواصلات، سائبر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں۔

اب چین نے ان تینوں شعبوں میں امریکہ کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور تجارتی طاقت بن چکا ہے۔ امریکہ خود چین کا ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کا مقروض ہے، اور چین جنوبی بحیرہ چین جیسے حساس علاقوں میں اسٹریٹجک اثر و رسوخ حاصل کر چکا ہے۔

فوجی میدان میں بھی چین اب ایک مضبوط جوہری طاقت کے طور پر سامنے آ چکا ہے، جو مشرقی ایشیا میں امریکی اثر کو محدود کر رہا ہے۔ٹیکنالوجی کے شعبے میں، جہاں امریکہ کا غلبہ تھا، چین نے خود کو برابر بلکہ کئی شعبوں میں برتر ثابت کیا ہے۔مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ امریکہ کے قریبی اتحادی — یورپ، مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکہ — بھی اب چین کےساتھ اقتصادی شراکت داری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔یہ تجارتی جنگ ناگزیر تھی۔
چین کے تیز رفتار ابھار نے امریکہ کو جلد ردِعمل دینے پر مجبور کیا، جیسا کہ ہم ٹرمپ دور میں دیکھ چکے ہیں۔ اب اس جنگ کے اثرات دنیا کی معیشتوں، اسٹاک مارکیٹس، تیل کی قیمتوں، مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں پر واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔دنیا ایک عالمی معاشی جمود کی طرف بڑھ رہی ہے — اور اس سے بچاؤ کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین