ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستاناڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کا احتجاج، عمران خان کی...

اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کا احتجاج، عمران خان کی بہنیں و دیگر رہائی کے بعد دھرنا ختم
ا

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے باہر ان کے اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے احتجاج اور دھرنا دیا گیا۔ پولیس نے عمران خان کی زیر حراست بہنوں، عالیہ حمزہ اور صاحبزادہ حامد رضا سمیت متعدد افراد کو مختصر حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا، جس کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کے لیے مقررہ دن پر ان کی بہنیں، بشریٰ بی بی کے رشتہ داران، اور پارٹی رہنما جیل پہنچے۔ ان میں پی ٹی آئی کی رہنما عالیہ حمزہ، وکلاء علی ظفر، علی عمران شہزاد، حسنین سنبل، راجا متین اور خان عاقل خان شامل تھے۔

عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور ان کے کزن قاسم نیازی کو جیل سے قبل ہی نجی فارماسیوٹیکل کمپنی کے قریب روک دیا گیا۔ گورکھپور چیک پوائنٹ پر پولیس سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اہل خانہ نے احتجاج کیا، جس کے بعد جیل انتظامیہ نے عظمیٰ خان، نورین خان اور قاسم نیازی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی۔

علیمہ خان کے بغیر ملاقات سے انکار کرتے ہوئے اہل خانہ وہیں موجود رہے۔ بعدازاں پولیس اور ایلیٹ فورس کی نفری بھی وہاں پہنچ گئی۔ پی ٹی آئی کے بعض دیگر رہنما بھی موقع پر پہنچے جنہیں جیل جانے سے روک دیا گیا۔

پولیس نے احتجاج کے دوران متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا تاہم بعدازاں انہیں یقین دہانی کے بعد رہا کر دیا گیا۔ احتجاج میں شامل علیمہ خان سمیت متعدد خواتین کو پولیس نے تحویل میں لے کر ایک قریبی شادی ہال منتقل کیا، جہاں انہوں نے لان میں دھرنا دے دیا۔ پولیس افسران بھی ان کے ہمراہ وہیں بیٹھ گئے۔ بعدازاں دھرنا ختم کر دیا گیا اور عمران خان کی بہنوں کو سیکیورٹی میں گھر روانہ کر دیا گیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے حکم کے باوجود ملاقات کی اجازت نہ دینا آئینی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق صرف "تحویل میں لینے” کی اصطلاح استعمال کی گئی، مگر یہ اقدام درحقیقت غیر قانونی حراست کے مترادف ہے۔

ادھر اڈیالہ جیل میں بیرسٹر گوہر سمیت چھ رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات کی، جس میں عمران خان نے عالیہ حمزہ کو پنجاب میں تنظیمی فیصلوں میں مکمل اختیار دیتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی۔

اڈیالہ روڈ پر صحافیوں سے بدسلوکی کے واقعے پر سی پی او راولپنڈی سید خالد ہمدانی نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اہلکار کو معطل کرنے اور مکمل انکوائری کی ہدایت جاری کی ہے۔

پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ عمران خان کی بہنوں نے بغیر علیمہ خان کے ملاقات سے انکار کر کے اعلیٰ کردار کا مظاہرہ کیا، جو پارٹی قیادت کے لیے ایک مثال ہے۔

قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے بھی عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے عید کے روز نماز پڑھنے اور بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، جبکہ سیاسی ملاقاتیں بھی روکی جا رہی ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو دہشت گرد تصور کرنا بند کیا جائے۔ ان کے مطابق عمران خان بے گناہ قید ہیں اور ان کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہ دینا عدالتی توہین کے مترادف ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین