اسلام آباد — وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے دو دہائیوں بعد 26 ارب روپے کا خالص منافع حاصل کیا ہے اور اب یہ ادارہ نجکاری کے عمل سے مالیاتی کارکردگی کا فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پی آئی اے بورڈ نے مالی سال 2024 کے اکاؤنٹس کی منظوری دے دی ہے، جس کے مطابق ادارے نے 9 ارب 30 کروڑ روپے کا آپریٹنگ منافع جبکہ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے بعد 26 ارب 20 کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’شہباز شریف کی قیادت میں چاروں طرف سے اچھی خبریں آرہی ہیں، اور 21 سال بعد قومی ایئرلائن نے مالی بحالی کی طرف فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔‘‘
وزیر دفاع نے تسلیم کیا کہ ماضی میں عوام نے "ایک وقت کی قومی شان” پی آئی اے سے امیدیں چھوڑ دی تھیں، لیکن حکومت کی جانب سے بیلنس شیٹ کی تنظیم نو، اخراجات اور افرادی قوت میں اعتدال، فضائی راستوں کی اصلاح، اور مالی نظم و ضبط جیسے اقدامات کے باعث ادارے کو بحالی کی راہ پر گامزن کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پی آئی اے گزشتہ کئی برسوں سے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں میں شامل رہی ہے۔ وزارت خزانہ کی 2023-24 کی رپورٹ کے مطابق، اس سال ادارے کو 73 ارب 50 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔
مسلسل خسارے کے باعث حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ کیا، تاہم اکتوبر 2023 میں نجکاری کی پہلی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی تھی جب واحد بولی دہندہ نے صرف 10 ارب روپے کی پیشکش کی، جو نجکاری کمیشن کی مقرر کردہ کم از کم 85 ارب روپے کی توقعات سے کہیں کم تھی۔
گزشتہ ماہ وفاقی وزیر برائے نجکاری عبدالعلیم خان نے اعلان کیا تھا کہ حکومت آئندہ تین ماہ کے اندر پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق تمام اقدامات مکمل کرلے گی۔

