چین پر امریکی محصولات میں اضافہ: اسٹاک مارکیٹ میں 2600 پوائنٹس کی بڑی مندی
عالمی سطح پر امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی میں دوبارہ شدت آنے کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی شدید مندی دیکھی گئی ہے۔
📉 KSE-100 انڈیکس میں 2,641 پوائنٹس کی کمی
- بدھ کے روز صبح 10:49 پر انڈیکس 2.29 فیصد کی کمی کے ساتھ 112,891 پوائنٹس تک گر گیا۔
- گزشتہ روز (115,532) کی سطح پر مارکیٹ بند ہوئی تھی، اور کچھ ریکوری دیکھی گئی تھی، مگر تجارتی تناؤ نے پھر سے مندی کو جنم دیا۔
امریکی ٹیرف 104 فیصد تک پہنچ گئے
- امریکہ نے چینی درآمدات پر محصولات کو 104 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔
- چین نے امریکی اقدامات پر ’آخر تک لڑنے‘ کا اعلان کیا، جس کے بعد واشنگٹن نے ٹیرف کو دوگنا کر دیا۔
- یہ اقدامات دنیا بھر کی معاشی ترقی میں سست روی کا خطرہ بڑھا رہے ہیں۔
🧠 ماہرین کا تجزیہ
🔹 اویس اشرف (AKD سیکیورٹیز):
"امریکی ٹیرف میں اضافے نے عالمی کساد بازاری کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے جذبات منفی ہو گئے ہیں۔”
🔹 علی نجیب (انسائٹ سیکیورٹیز):”9 اپریل کے بعد عالمی محصولات کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
باہمی محصولات سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے،
برآمداتی کمپنیوں کے اسٹاک متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ
محفوظ اثاثے جیسے سونا زیادہ پرکشش ہو سکتا ہے۔”
🌐 عالمی اثرات اور خطرات
- بڑے تجارتی شراکت داروں کے مابین تناؤ انتقامی تجارتی اقدامات کو جنم دے سکتا ہے۔
- اس سے عالمی سپلائی چین اور آمدنی کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔
- اگرچہ اشیاء کی گرتی ہوئی قیمتیں (خصوصاً تیل) پاکستان کے بیرونی کھاتوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔
🔎 نتیجہ
تجارتی جنگ کا عالمی منظرنامہ مسلسل بدل رہا ہے، اور اس کے اثرات ابھرتی ہوئی معیشتوں پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ پاکستان کو سرمایہ کاری، برآمدات اور پالیسیوں کے حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ اندرونی معیشت پر منفی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

