پاکستان کا معاشی منظرنامہ: اصلاحات کی کامیابی پر انحصار – ایشیائی ترقیاتی بینک
ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے اپنی سالانہ رپورٹ ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک میں کہا ہے کہ پاکستان کا معاشی مستقبل بڑی حد تک جاری معاشی اصلاحات کی کامیابی سے مشروط ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
- رواں مالی سال (جو 30 جون 2025 کو ختم ہوگا) میں معاشی ترقی کی شرح 2.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
- آئندہ مالی سال (2025-26) میں ترقی کی رفتار میں معمولی بہتری کی امید ہے، اور شرح نمو 3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
معاشی سرگرمیوں کی موجودہ صورتحال
- رپورٹ میں مالی سال 2025 کی آخری سہ ماہی کے عبوری اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ بحالی کا عمل جاری ہے لیکن سست روی کا شکار ہے۔
- زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کی کارکردگی توقع سے کم رہی ہے، جس کی وجہ سے معاشی سرگرمی محدود رہی۔
چیلنجز اور مواقع
- پاکستان کو اب بھی ساختی مسائل اور کمزور اقتصادی بنیادوں کا سامنا ہے۔
- زرعی پیداوار میں ممکنہ کمی اور مالی استحکام کے اقدامات کی وجہ سے آئندہ مہینوں میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
- تاہم، اگر اصلاحات کا نفاذ مؤثر طریقے سے جاری رہا تو میکرو اکنامک استحکام میں اضافہ ہوگا اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں بتدریج ختم ہو سکیں گی۔
مثبت امکانات
- بجلی، گیس اور پانی کی سپلائی میں بہتری سے صنعتی شعبے کی بحالی کا امکان ہے۔
- مالیاتی نرمی، نجی سرمایہ کاری میں بہتری، زرمبادلہ مارکیٹ کا استحکام، اور ترسیلات زر میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جو نجی کھپت اور اقتصادی ترقی کو سہارا دے سکتے ہیں۔
اصلاحات میں پیش رفت
- رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2024 میں شروع ہونے والے IMF کے توسیعی فنڈ پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
- زرعی ٹیکس بل 2025 کی منظوری کے بعد، پاکستان بھر میں زرعی آمدنی قابلِ ٹیکس ہو گئی ہے، جو ایک اہم سنگِ میل ہے۔
- دیگر اصلاحات میں قرضوں میں کمی، سخت مالیاتی پالیسی، توانائی کے شعبے میں بہتری اور ساختی اصلاحات کے ایجنڈے پر عملدرآمد شامل ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی، ترقی اور معاشی خطرات — ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ
ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے مالی سال 2025 اور مالی سال 2026 کے لیے پاکستان کے معاشی اشاریوں اور خطرات سے متعلق اہم تخمینے پیش کیے ہیں۔
🔺 مہنگائی کے تخمینے
- مالی سال 2025 میں اوسط افراط زر (مہنگائی) کی شرح 6 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
- مالی سال 2026 میں یہ شرح 5.8 فیصد تک آنے کا امکان ہے۔
- یاد رہے، اس سے قبل اے ڈی بی نے مہنگائی کا تخمینہ 10 فیصد لگایا تھا جبکہ حکومت نے 12 فیصد ہدف مقرر کیا ہوا تھا۔
📉 شرح نمو (GDP Growth)
- مالی سال 2025 میں 2.5 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو پہلے تخمینے (3 فیصد) سے کم ہے۔
- حکومت نے اس مالی سال کے لیے 3.6 فیصد ترقی کا ہدف مقرر کیا تھا۔
- مالی سال 2026 میں ترقی کی رفتار 3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
⚠️ خطرات اور خدشات
ADB نے رپورٹ میں کئی داخلی و خارجی خطرات کی نشاندہی کی ہے جو معاشی منظرنامے پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں:
- اجناس کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
- عالمی تجارتی پالیسیوں میں غیر یقینی تبدیلیاں
- بجلی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کا امکان
- حکومتی محصولات میں کمی یا غیر متوقع اخراجات
- سیاسی تناؤ میں اضافہ، جس سے کاروباری اعتماد متاثر ہو سکتا ہے
- خشک سالی یا بارش کی کمی جو زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کو متاثر کر سکتی ہے
- بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے تعاون میں کمی (اگر اصلاحات میں سستی دکھائی گئی)
🧩 پالیسی کی اہمیت
- رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر حکومت جلد بازی میں معاشی پالیسیوں میں نرمی کرتی ہے تو اس سے ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور حالیہ میکرو اکنامک استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
- محصولات کی ناقص وصولی یا اخراجات کے اضافے سے حکومتی قرضے بڑھنے اور زرمبادلہ کی مارکیٹ پر دباؤ آنے کا خطرہ ہے۔

