اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کیے جانے سے پاکستان کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں، جن کی مالیت ابتدائی اندازوں کے مطابق 50 سے 70 کروڑ ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
تاہم، متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ اگر علاقائی ممالک، خصوصاً چین کے خلاف محصولات میں اضافہ ہوتا ہے، تو یہ اقدام اسلام آباد کے لیے ایک موقع بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس مرحلے پر کسی واضح نقصان یا فائدے کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے، لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ اقدام غیر یقینی صورتحال پیدا کرے گا اور ممکنہ طور پر امریکی مارکیٹوں میں کساد بازاری (recession) کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ٹریڈ اینڈ کامرس گروپ سے تعلق رکھنے والے سابق بیوروکریٹ ڈاکٹر صفدر سہیل نے منگل کے روز روزنامہ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام دراصل دو اقدامات کو یکجا کرتا ہے: مختلف ممالک کی تجارتی پالیسیوں کا جائزہ اور تجارتی دفاعی قوانین (جیسے اینٹی ڈمپنگ، سبسڈی کے خلاف اقدامات، تعزیری تدابیر وغیرہ) کا نفاذ۔ عام طور پر یہ عمل عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے نظام کے تحت کئی سالوں پر محیط ہوتا ہے۔ لیکن اس کیس میں چونکہ ایک ہی ملک (امریکہ) نے یہ قدم اٹھایا ہے، اس لیے باقی دنیا کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اپیل کا عمل تمام ممالک کے لیے بیک وقت شروع ہو سکے۔ڈاکٹر صفدر سہیل کے مطابق پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے محصولات کے اثرات پر کیا گیا تجزیہ متوازن ہے اور اس پر گھبرانے یا تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے ساتھ، جو کہ اس کا سب سے اہم دوطرفہ تجارتی شراکت دار ہے، تعمیری انداز میں مذاکرات کرے۔

