پشاور: پاکستان کو حالیہ اطلاعات کے بعد ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج کا سامنا ہے، جن کے مطابق طالبان نے جدید اینٹی ٹینک میزائل، بشمول امریکی ساختہ ایف جی ایم-148 جیولن، حاصل کر لیے ہیں۔فتنہ الخوارج سے منسلک ایک گروپ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں عسکریت پسندوں کو جیولن میزائل کے ساتھ تربیت حاصل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ میزائل اپنی "فائر اینڈ فارگیٹ” صلاحیت کے لیے مشہور ہے، جو ایک مرتبہ داغے جانے کے بعد خودکار طور پر اپنے ہدف—جیسے کہ دشمن کے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، اور قلعہ بند پوزیشنز—کو تلاش کرکے نشانہ بناتا ہے، جبکہ آپریٹر کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی سہولت دیتا ہے۔ایک سیکیورٹی اہلکار نے اس نمائندے کو بتایا کہ فی الحال ان میزائلوں کی پاکستان میں موجودگی کے کوئی مصدقہ شواہد نہیں ہیں، تاہم اصل تشویش یہ ہے کہ "فتنہ الخوارج” جیسے گروہوں کے پاس اب یہ صلاحیت موجود ہے، جسے وہ اگر چاہیں تو پاکستان کے کسی بھی حصے میں استعمال کر سکتے ہیں۔

