ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی ٹیرفز سے دو کھرب ڈالر کی عالمی سرمایہ کاری کو خطرہ...

امریکی ٹیرفز سے دو کھرب ڈالر کی عالمی سرمایہ کاری کو خطرہ لاحق: فنانشل ٹائمز
ا

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت سے اب تک کمپنیوں نے امریکہ میں کم از کم 1.9 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے، تاہم اب تجارتی جنگ اور بڑھتی ہوئی عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث یہ سرمایہ کاری خطرے میں دکھائی دے رہی ہے۔

فنانشل ٹائمز نے منگل کو بتایا کہ ٹرمپ کے دورِ صدارت کے آغاز سے امریکی اور غیر ملکی کمپنیوں نے امریکہ میں مجموعی طور پر 1.9 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا، جو بائیڈن کے دور میں اکتوبر 2024 تک نجی صنعتی سرمایہ کاری کے 910 ارب ڈالر کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہے، جیسا کہ امریکی محکمہ تجارت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ سرمایہ کاریوں میں جاپانی کمپنی سافٹ بینک اور چِپ ساز ادارے ٹی ایس ایم سی کی جانب سے 100 ارب ڈالر، فرانسیسی شپنگ کمپنی سی ایم اے سی جی ایم کی جانب سے 20 ارب ڈالر، ایپل کی طرف سے 500 ارب ڈالر اور کار ساز کمپنی اسٹیلنٹِس کی جانب سے 5 ارب ڈالر شامل ہیں۔ تاہم ان میں سے کئی کمپنیاں ایسی ہیں جن کی فراہمی کی عالمی زنجیریں ان ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں جن پر ٹرمپ نے چین، بھارت اور یورپی یونین کے خلاف ٹیرف عائد کیے ہیں۔

ڈارٹماؤتھ کالج کی ماہرِ بین الاقوامی تجارت اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹریسا فورٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے ٹیرفز کا اثر نہ صرف موجودہ 1.9 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاریوں پر پڑے گا بلکہ عالمی تجارتی نظام میں غیر یقینی کی ایسی کیفیت پیدا ہوگی جو طویل المدتی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو ناممکن بنا دے گی۔ "یہ امریکہ کو سرمایہ کاری کے لیے ایک کم پرکشش مقام بنا دے گا۔”

عالمی سطح پر امریکی ٹیرفز پر تشویش

فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی تجارتی پالیسیوں کے نتیجے میں "پیسہ برس رہا ہے”، تاہم جب انہوں نے یورپی یونین سے درآمدات پر 20 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا تو فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے یورپی کمپنیوں کو امریکی سرمایہ کاری سے روکنے کی اپیل کی، اور یورپی کمیشن کے ساتھ مشاورت کا عندیہ دیا۔

میکرون نے کہا: "اگر ہم اس وقت جب امریکہ ہم پر تجارتی وار کر رہا ہے، وہاں اربوں یورو کی سرمایہ کاری کریں گے تو یہ کیسا پیغام جائے گا؟” انہوں نے کمپنیوں کو واشنگٹن کے ساتھ رعایتوں کے لیے مذاکرات سے بھی باز رہنے کا مشورہ دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جاپان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیرِ اعظم شیگیرو اشیبا نے ایک ٹیلیفونک گفتگو میں ٹرمپ سے ٹیرف پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ یہ اقدامات جاپانی کمپنیوں کی امریکہ میں سرمایہ کاری کی صلاحیت کو کمزور کر سکتے ہیں۔ جاپان امریکہ میں سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار ہے۔

اگرچہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحفظ پسندانہ پالیسیوں کے باعث دیگر ممالک امریکہ میں پیداواری تنصیبات لگانے پر مجبور ہوں گے، لیکن رپورٹ کے مطابق کیپجیمینی ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے رواں سال پیش گوئی کی ہے کہ امریکی کمپنیاں 2027 تک پیداواری عمل کی واپسی (reshoring) پر 1.1 کھرب ڈالر خرچ کر سکتی ہیں، جو کہ 2024 کی پیش گوئی (750 ارب ڈالر) سے کہیں زیادہ ہے۔

تاہم فری مارکیٹ پر مبنی تھنک ٹینک "کیٹو انسٹیٹیوٹ” کے نائب صدر اسکاٹ لنسی کوم نے خبردار کیا ہے کہ کارپوریٹ منافع میں کمی، پیداواری لاگت میں اضافہ اور امریکی معیشت کی سست روی کے باعث سرمایہ کاری کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا: "جس کسی نے بھی سوچا تھا کہ یہ سرمایہ کاریوں کے اعلانات ٹیرفز کو ختم یا سست کر دیں گے، وہ بڑی غلط فہمی کا شکار رہا۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ان اقدامات کو طویل المدتی سرمایہ کاری کی کسی منظم حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جائے۔”

ٹیرف کی غیر یقینی صورتحال اور اس کے مضمرات

رپورٹ کے مطابق اسٹیلنٹِس نے ٹیرف پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر کینیڈا اور میکسیکو میں 900 ملازمین کو عارضی طور پر برطرف کرنے اور پیداوار روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متعدد سرمایہ کاری کے اعلانات دراصل پہلے سے موجود منصوبوں کا تسلسل ہو سکتے ہیں، لہٰذا ان کی حتمی عمل درآمد کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

امریکی تعلیمی ماہر کے مطابق: "یہ سرمایہ کاری کے اعلانات جنوری یا فروری میں سامنے آئے، یہ نئی حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں ہو سکتے، کیونکہ مالیاتی منصوبہ بندی کافی طویل عمل ہوتا ہے۔”

فنانشل ٹائمز نے رپورٹ میں بتایا کہ ایپل نے فروری میں 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، لیکن جب ٹرمپ نے ایشیا میں اس کی فراہمی اور پیداوار کے مراکز پر اثر انداز ہونے والے ٹیرفز کا اعلان کیا تو کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں 300 ارب ڈالر سے زائد کی کمی دیکھنے میں آئی۔ اگرچہ ایپل پہلے ہی امریکہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر چکی ہے، مگر نئی پالیسیوں کا مکمل اثر واضح نہیں۔

جنوبی کوریا کی کار ساز کمپنی ہنڈائی نے امریکہ میں 21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 100,000 نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے، اگرچہ اسے امریکہ میں غیر ملکی گاڑیوں پر 25 فیصد اور تمام جنوبی کوریائی مصنوعات پر اضافی 25 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے۔

سافٹ بینک، جس کی قیادت سی ای او مایوسوشی سون کر رہے ہیں، نے ٹرمپ کے 2016 کے انتخابی دور کے بعد 50 ارب ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری سے بڑھ کر اب 50,000 ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ تاہم تجزیہ کار کرک بوڈری نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹیرفز کے باعث مارکیٹ میں طویل مندی آئی تو سافٹ بینک کو اثاثے فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جیسا کہ کورونا وبا کے دوران ہوا تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین