ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیواشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز ہوگا: تہران

واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز ہوگا: تہران
و

ایرانی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ آئندہ مذاکرات بالواسطہ اور اعلیٰ سفارتی سطح پر ہوں گے، جبکہ تہران نے قومی مفادات کے تحفظ کے عزم کو دہرایا ہے۔

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مهاجرانی نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات براہِ راست نہیں بلکہ بالواسطہ اور اعلیٰ سطح پر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی اولین ترجیح اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہے اور وہ متوازن مذاکرات کے ذریعے اس ہدف کے حصول کا خواہاں ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات سنجیدہ اور ایرانی عوام کے مفاد میں ہوں گے۔

جب ان سے ایک بار پھر براہِ راست مذاکرات کے امکان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا: "بات چیت کا آغاز ہونا چاہیے تاکہ دیکھا جا سکے کہ یہ کہاں تک جاتی ہے۔”

ادھر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اعلان کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ اعلیٰ سطحی مذاکرات 12 اپریل کو عمان میں ہوں گے، جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کے برعکس ہے جن میں انہوں نے براہِ راست مذاکرات کا دعویٰ کیا تھا۔

عراقچی نے لکھا: "یہ جتنا ایک موقع ہے، اتنا ہی ایک امتحان بھی ہے۔ گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔”

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ "براہِ راست مذاکرات کر رہا ہے، جو شروع ہو چکے ہیں اور ہفتہ کے روز جاری رہیں گے۔”

ٹرمپ نے مزید کہا: "ہمارے پاس ایک بہت اہم ملاقات ہے، دیکھتے ہیں کیا ممکن ہے۔ میرا خیال ہے کہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ کسی معاہدے تک پہنچنا بہتر ہوگا۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین