ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیقابض القدس اور واشنگٹن میں نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے

قابض القدس اور واشنگٹن میں نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے
ق

قابض القدس میں اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ نے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے باہر قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی بحالی کے مطالبے کے لیے مظاہرہ کیا، جبکہ ان کے دورۂ امریکہ کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں بھی احتجاج ہوا۔

اسرائیلی چینل 11 کے مطابق غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کے قبضے میں موجود اسرائیلی قیدیوں اور سابق قیدیوں کے اہل خانہ نے نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کیا۔ مظاہرے کے دوران قیدیوں کی واپسی کے بعد دیے گئے بیانات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔

ادان الیگزینڈر کی دادی نے نیتن یاہو سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے کہا: "آپ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنی چاہیے اور ایک ایسا معاہدہ کرنا چاہیے جو تمام قیدیوں کی واپسی کو یقینی بنائے۔ آپ کو یہودی تاریخ میں ان قیدیوں کی واپسی کے حوالے سے یاد رکھا جانا چاہیے۔”

ایرز آدار، جن کے چچا 7 اکتوبر کو ہلاک ہوئے تھے، نے کہا: "یہ میرا پہلا احتجاج ہے کیونکہ ہم ایک بند گلی میں پہنچ چکے ہیں۔ اغوا شدہ فوجیوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، ہم مسلسل چیخ رہے ہیں، مگر کچھ نہیں بدل رہا۔ میں وزیرِ اعظم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ایک فیصلہ کن اقدام کے ذریعے قیدیوں کو واپس لائیں تاکہ مستقبل کی کوئی امید باقی رہے۔”

دوسری جانب، واشنگٹن ڈی سی میں بھی اس وقت مظاہرہ کیا گیا جب نیتن یاہو امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ اسرائیلی چینل 7 کے مطابق اسرائیلی اور امریکی یہودیوں نے مشترکہ طور پر بلیئر ہاؤس کے باہر احتجاج کیا۔ تقریباً 50 مظاہرین نے "شرم کرو” کے نعرے لگائے اور ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ "نیتن یاہو کے جال میں نہ پھنسیں” اور قیدیوں کی واپسی کے معاہدے کو بحال کریں۔

نیتن یاہو اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں وہ پیر کے روز صدر ٹرمپ اور امریکی مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔ اسرائیلی اخبار "یدیعوت آحارونوت” کے مطابق وٹکوف کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ "نیتن یاہو اور ٹرمپ قیدیوں کے مسئلے پر بات کر رہے ہیں۔”

ادھر غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کے دوران، اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور اس پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے ان کے بچوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی واپسی کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، جسے فلسطینی مزاحمت بھی تسلیم کرتی ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپید اور برطرف کیے گئے سیکیورٹی وزیر یوآو گیلنٹ بھی خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ میں نئی جنگ قیدیوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔

وقت کم پڑ رہا ہے

حماس کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈز نے "وقت کم پڑ رہا ہے” کے عنوان سے ایک ویڈیو جاری کی جس میں دو اسرائیلی قیدیوں کو دکھایا گیا۔ ان قیدیوں نے ایک اسرائیلی فضائی حملے سے زندہ بچنے کی تفصیل بیان کی۔

قیدیوں کا کہنا تھا: "اسرائیلی فوج نے ہم پر بمباری کا فیصلہ کیا اور اس عمارت کو نشانہ بنایا جس میں ہم موجود تھے۔ مگر ہم خدا کے فضل اور ان حماس مجاہدین کی بدولت بچ گئے جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہمیں وہاں سے نکالا تاکہ ہم تازہ ہوا میں سانس لے سکیں۔ جب بمباری شروع ہوئی تو وہ ہمیں واپس سرنگوں میں لے گئے۔”

اس ویڈیو سے ایک دن قبل القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اعلان کیا تھا: "دشمن کے زندہ قیدیوں میں سے نصف ان علاقوں میں موجود ہیں جن کی حالیہ دنوں میں صہیونی فوج نے تخلیہ کرنے کی درخواست کی ہے۔”

اتوار کے روز القسام بریگیڈز نے اعلان کیا کہ اس کے مجاہدین نے اسرائیلی زیرِ قبضہ شہر اسدود [اشدود] پر میزائلوں کی بوچھاڑ کی، جو غزہ میں فلسطینی شہریوں کے قتل عام کے ردِعمل میں تھی۔

اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ قابض فلسطین کے وسطی علاقوں، اسکلان [اشکلون] اور اسدود میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ اسدود پر سات راکٹ داغے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق غزہ سے دس راکٹ فائر کیے گئے، جن میں سے کچھ کو روکنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسکلان میں تین صہیونی آبادکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی، جبکہ گاڑیوں، عمارتوں اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا۔ یہ تباہی تل ابیب کے جنوب میں واقع شفیلا کے علاقے تک پھیل گئی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین