دو برطانوی لیبر پارٹی کی ارکان پارلیمنٹ، ابتیسام محمد اور یوان یانگ، نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے حراست میں لیے جانے اور ملک بدر کیے جانے پر "حیرت زدہ” ہیں۔
ہفتہ کی شام یہ دونوں ارکان پارلیمنٹ ایک پارلیمانی وفد کے ہمراہ اسرائیل پہنچیں، تاہم اسرائیلی حکام نے ان پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے داخلے سے روک دیا کہ وہ "نفرت انگیز تقریر” پھیلانے اور "سکیورٹی فورسز کی دستاویزی کارروائی” کرنے کی نیت سے آئے ہیں۔ یہ بات اسرائیل کی پاپولیشن و امیگریشن اتھارٹی نے بتائی۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی نے ہفتہ کی شب اسرائیلی اقدام کو "ناقابل قبول، منفی اور نہایت تشویشناک” قرار دیا۔
انہوں نے کہا:
"میں نے اسرائیلی حکومت کے اپنے ہم منصبوں پر واضح کیا ہے کہ برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ اس طرح کا سلوک ناقابل قبول ہے، اور ہم دونوں ارکان پارلیمنٹ سے رابطے میں ہیں تاکہ ان کی مکمل معاونت کر سکیں۔”
ادھر برطانوی کنزرویٹیو پارٹی کی سربراہ، کیمی بادی نوک، نے اسرائیل کے اقدام کی حمایت کی اور کہا کہ "ہر ملک کو اپنے بارڈر کی حفاظت کا حق حاصل ہے”۔
اسرائیلی وزارت داخلہ کے مطابق، اتوار کی صبح 6 بجے (برطانوی وقت کے مطابق 3 بجے) دونوں ارکان ملک چھوڑ چکی تھیں۔
‘بے مثال قدم’
ابتیسام محمد اور یوان یانگ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا:
"ہمیں اسرائیلی حکام کی جانب سے برطانوی ارکان پارلیمنٹ کو مقبوضہ مغربی کنارے کے دورے کے لیے داخلے سے روکنے پر شدید حیرت ہوئی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
"یہ نہایت اہم ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں زمینی حقائق کا خود مشاہدہ کرنے کی اجازت ہو۔”
یاد رہے کہ 2024 میں منتخب ہونے کے بعد سے دونوں ارکان پارلیمنٹ اسرائیل کے غزہ پر جاری حملوں کے شدید ناقد رہے ہیں۔
ابتیسام محمد، جو شیفیلڈ سینٹرل سے رکن پارلیمنٹ ہیں، خارجہ امور کی منتخب کمیٹی کی رکن بھی ہیں۔ انہوں نے مارچ کے اوائل میں اسرائیل کا ایک سرکاری دورہ بھی کیا تھا جو تنازع کا شکار ہو گیا، جب اسرائیل کی نائب وزیر خارجہ نے ان کی ویڈیو بغیر اجازت جاری کر دی۔
فروری میں، محمد نے ایک کثیر الجماعتی خط کا آغاز کیا جس پر 61 ارکان پارلیمنٹ اور لارڈز نے دستخط کیے، جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیرقانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیاء کی درآمد پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح یوان یانگ، جو ایرلے اور وڈلی کی نمائندگی کرتی ہیں، نے جنوری میں پارلیمان میں انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزراء — ایتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ — پر پابندی لگانے کی حمایت کی تھی، جنہوں نے شمالی غزہ سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی اور ان علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری کی حمایت کی تھی۔
دونوں ارکان پارلیمنٹ ہفتہ کی سہ پہر لندن لوٹن ایئرپورٹ سے دو معاونین کے ہمراہ اسرائیل روانہ ہوئی تھیں۔ برطانوی دفتر خارجہ نے تصدیق کی کہ یہ وفد ایک پارلیمانی مشن کا حصہ تھا، لیکن اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ اس وفد کو اسرائیلی حکام نے تسلیم نہیں کیا۔
دونوں ارکان پارلیمنٹ نے کہا:
"ہم ان درجنوں ارکان پارلیمنٹ میں سے دو ہیں جنہوں نے حالیہ مہینوں میں اسرائیل-فلسطین تنازع پر عالمی انسانی قانون کی اہمیت اجاگر کی ہے۔”
"ارکان پارلیمنٹ کو پارلیمان میں سچ بولنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، بغیر اس خوف کے کہ انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا:
"ہم برطانوی فلاحی اداروں کے ساتھ مغربی کنارے میں انسانی امدادی منصوبوں اور متاثرہ کمیونٹیز کا دورہ کرنے آئے تھے، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے پارلیمانی وفود کو ایسے دورے کروا رہے ہیں۔”
"ہم برطانوی سفارتخانے، قونصل خانے، مشرق وسطیٰ کے وزیر، اور وزیر خارجہ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری حراست اور بے دخلی کے دوران مسلسل تعاون فراہم کیا۔”

