خطے میں کشیدگی کے خدشات نے خلیجی ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے، جو تیل کی پائپ لائنوں کے استحکام پر شدید انحصار رکھتے ہیں۔
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری پروگرام پر براہِ راست مذاکرات کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور اس کے بجائے عمان کے ذریعے بالواسطہ بات چیت جاری رکھنے کی تجویز دی ہے، جو ایک پرانا ثالث ہے۔
انہوں نے کہا، "بالواسطہ مذاکرات ایران کے ساتھ سیاسی حل کے حوالے سے واشنگٹن کی سنجیدگی کو پرکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔” ان کے مطابق اگر امریکی اشارے مثبت ہوئے تو یہ مذاکرات جلد شروع ہو سکتے ہیں، اگرچہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ عمل "دشوار” ہو سکتا ہے۔
اسی دوران ایران نے خطے کے ممالک — عراق، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی، اور بحرین — کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے امریکی افواج کو ایران پر حملے کے لیے اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی تو اسے "دشمانہ اقدام” تصور کیا جائے گا۔
ایرانی عہدیدار نے متنبہ کیا، "ایسا اقدام ان کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنے گا،” اور مزید بتایا کہ رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایرانی مسلح افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔
یہ انتباہات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل کی جانب سے غزہ اور لبنان پر جارحیت، امریکہ کی یمن پر فضائی بمباری، شام میں سیاسی تبدیلیاں، اور ایران و اسرائیل کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورتِ حال خطے کے اُن خلیجی ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے جن کی معیشت اور سلامتی تیل کی محفوظ ترسیل سے جُڑی ہوئی ہے۔
خطے میں کشیدگی، ایران کا اتحادی ممالک کو خبردار کرنا
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، کویت نے تہران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک پر جارحیت کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ دوسری جانب، ترک وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کی جانب سے کوئی براہِ راست پیغام موصول نہیں ہوا، البتہ ایسے پیغامات دیگر ذرائع سے بھی پہنچائے جا سکتے ہیں۔
ایرانی عہدیدار نے اشارہ دیا کہ مذاکرات کے لیے شاید دو ماہ کی ایک محدود ونڈو موجود ہے، اس سے قبل کہ اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی یا اقوامِ متحدہ کی "اسنیپ بیک پابندیاں” دوبارہ لاگو ہونے کا خطرہ بڑھ جائے۔
اگرچہ ایران مسلسل یہ موقف رکھتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا، لیکن اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی 60 فیصد تک بڑھا دی ہے، جو ہتھیاروں کی سطح کے قریب ہے۔
ایران اگرچہ بالواسطہ بات چیت کے ذریعے اپنے جوہری پروگرام پر خدشات کا ازالہ کرنے پر آمادہ ہے، لیکن وہ "دھمکیوں کے تحت” براہِ راست مذاکرات کو مسترد کرتا ہے اور اپنے میزائل پروگرام کو زیرِ بحث لانے سے بھی انکار کرتا ہے۔
ہفتے کے آغاز میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل امیر علی حاجی زادہ نے اشارہ دیا تھا کہ اگر مکمل جنگ چھڑ گئی تو خطے میں امریکی فوجی اڈے اور افواج ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔

