امریکی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ یمن میں انصار اللہ کے خلاف جاری فضائی مہم کے نتائج نہایت محدود رہے ہیں، حالانکہ اس آپریشن پر ایک ارب ڈالر کے قریب خرچ ہو چکے ہیں، جس سے اس جارحانہ حکمتِ عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
روزنامہ نیویارک ٹائمز کے مطابق، صرف تین ہفتوں کے دوران امریکی افواج نے یمن میں مبینہ انصار اللہ اہداف پر شدت سے حملے کرتے ہوئے دو سو ملین ڈالر سے زائد مالیت کے جدید اور مہنگے میزائل استعمال کیے ہیں، جبکہ اگلے ہفتے تک اس آپریشن کی مجموعی لاگت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔
تاہم، امریکی حکام نے نجی طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس بھرپور اور مہنگی کارروائی کے باوجود یمنی میزائل حملوں کی صلاحیت کو کمزور کرنا یا ان کی قوت کو مؤثر انداز میں کم کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔
اگرچہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پینٹاگون کی جانب سے 15 مارچ کو شروع کیے گئے "آپریشن رف رائیڈر” کو انصار اللہ کی کمر توڑنے والا قرار دیا گیا، لیکن عسکری و انٹیلیجنس حکام نے کانگریس اور اتحادیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ انصار اللہ کے زیر زمین میزائل اور ڈرونز کا وسیع ذخیرہ اب بھی محفوظ اور فعال ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انصار اللہ نے مضبوط بنکروں اور خفیہ ہتھیاروں کے گوداموں کے ذریعے امریکی نیوی اور فضائیہ کے روزانہ حملوں کے اثرات کو محدود کر دیا ہے۔
یہ آپریشن سابق صدر جو بائیڈن کے دور کے کسی بھی آپریشن سے کہیں زیادہ وسیع ہے، جس میں دو طیارہ بردار بحری جہاز، بی-2 بمبار طیارے، لڑاکا طیارے اور پیٹریاٹ و تھیڈ جیسے جدید فضائی دفاعی نظام شامل ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ہتھیاروں جیسے ٹوماہاک میزائل اور گلائیڈ بموں کے مسلسل استعمال سے امریکی بحریہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس پر پینٹاگون منصوبہ سازوں نے آئندہ ممکنہ تنازعات، خصوصاً تائیوان پر چین سے ممکنہ جنگ کے تناظر میں تشویش ظاہر کی ہے۔
اگرچہ ٹرمپ حکومت کے اعلیٰ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مہم نے انصار اللہ کی قیادت اور مواصلاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے، مگر گروہ اب بھی ریڈ سی کے راستے اسرائیلی مقبوضات کی جانب جانے والے تجارتی جہازوں پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔ اندرونی تجزیوں کے مطابق امریکی حملے انصار اللہ کی آپریشنل صلاحیتوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں لا سکے۔
اخبار کے مطابق، وائٹ ہاؤس جلد کانگریس سے اس مہم کے تسلسل کے لیے اضافی بجٹ کی منظوری کی درخواست کر سکتا ہے۔ اگرچہ اعلیٰ دفاعی حکام نے عوامی سطح پر اس مہم کے چھ ماہ تک جاری رہنے کے امکان کو مسترد کیا ہے، مگر نجی بریفنگز میں اس امکان کو تسلیم کیا گیا ہے۔
مارچ کے وسط سے امریکی حملوں میں 92 یمنی شہری جاں بحق
ادھر یمن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں میں شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے عام شہریوں کی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امریکی قانون سازوں نے اس مہم کی مؤثریت اور قانونی جواز پر سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت سے فوجی جارحیت سے ہٹ کر واضح حکمتِ عملی کا مطالبہ کیا ہے۔
یمنی وزارتِ صحت کے ترجمان انیس السباہی کے مطابق، مارچ کے وسط سے اب تک امریکی فضائی حملوں میں کم از کم 92 شہری جاں بحق اور 165 زخمی ہو چکے ہیں۔
جمعرات کو ایک بیان میں السباہی نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکی حملوں میں پانچ شہری جاں بحق، پانچ زخمی اور ایک لاپتہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ یمنی عوام اپنی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یمن کی جانب سے نومبر 2023 میں غزہ کی حمایت میں عسکری کارروائیاں شروع ہونے کے بعد سے امریکی، برطانوی اور اسرائیلی جارحیت میں مجموعی طور پر 964 شہری نشانہ بن چکے ہیں، جن میں 250 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار یکم اپریل تک کے ہیں۔
امریکی فضائی حملے تاحال یمن کے مختلف صوبوں اور شہروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے ملک کی پہلے سے ابتر انسانی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

