اسلام آباد: امریکی محکمہ خارجہ کے حوالے سے اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سینئر امریکی عہدیدار ایرک میئر 8 سے 10 اپریل 2025 تک اسلام آباد کا دورہ کریں گے، جس کا مقصد پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اپنے دورے کے دوران، ایرک میئر پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ اہم معدنیات کے شعبے میں امریکی مفادات کو آگے بڑھایا جا سکے اور امریکی کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ ان کا یہ دورہ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کے موقع پر ہو رہا ہے، جہاں دونوں ممالک کلیدی شعبوں میں اقتصادی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔
اس موقع پر انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں تعاون پر بھی بات چیت ہوگی، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا جا سکے۔
امریکی وفد میں مختلف سرکاری اداروں کے نمائندگان شامل ہوں گے، جو اس دورے کی اسٹریٹجک نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ دورہ امریکہ اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا تسلسل ہے، جس میں اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی درآمدی محصولات کے حالیہ نفاذ کے بعد امریکی ہم منصبوں سے مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اورنگزیب نے کہا کہ ایک اسٹیئرنگ کمیٹی اور ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے جو محصولات کے ردعمل میں ایک جامع لائحہ عمل تیار کرے گا، جسے جلد وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ وفد محصولات کے اثرات کو کم کرنے اور دو طرفہ تجارت کو مستحکم کرنے کے مواقع تلاش کرے گا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ اقدامات چیلنجز کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم ان سے اقتصادی تعاون کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مقامی صنعتوں کے لیے فی الحال کسی خصوصی ریلیف پیکیج پر غور نہیں کیا جا رہا۔

