اسلام آباد – وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد آئندہ چند دنوں میں امریکہ روانہ ہوگا تاکہ امریکی حکام سے پاکستان کے مؤقف پر بات چیت کی جا سکے۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر قیادت امریکی انتظامیہ کی نئی تجارتی پالیسی اور پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
وزیر خزانہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی اور وفد واشنگٹن روانہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا: "ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے مؤقف کو درمیانی اور طویل المدتی تناظر میں ایک دوطرفہ فائدہ مند صورتحال کے طور پر پیش کریں۔”
امریکہ نے چند روز قبل پاکستان کی برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان نے سال 2024 میں امریکہ کو 5.44 ارب ڈالر مالیت کی برآمدات کیں، جن میں سے تقریباً 90 فیصد ٹیکسٹائل مصنوعات پر مشتمل تھیں۔ جاری مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ (جولائی تا فروری) میں امریکہ کو برآمدات 4 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی نسبت 10 فیصد زیادہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق نئے ٹیرف سے سب سے زیادہ اثر ٹیکسٹائل سیکٹر پر پڑے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے پر دو خصوصی کمیٹیاں قائم کی ہیں: ایک اسٹیئرنگ کمیٹی جس کی سربراہی وزیر خزانہ کر رہے ہیں اور اس میں وزرا، صنعتکار، ماہرین تعلیم اور سرکاری سیکرٹریز شامل ہیں؛ اور دوسری ورکنگ گروپ جس کی سربراہی سیکریٹری تجارت کریں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ صورتحال فوری چیلنجز ضرور رکھتی ہے، لیکن یہ بات چیت اور طویل المدتی تعلقات کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا: "کبھی بھی کسی بحران کو ضائع مت ہونے دو۔”
وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی 60 سال کی کم ترین سطح پر آ چکی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر جون تک 13 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے رواں مالی سال میں معیشت کی شرحِ نمو کو 3 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی کی۔ مارچ کے مہینے میں مہنگائی کی شرح کم ہوکر صرف 0.7 فیصد رہ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کمی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنے چاہییں۔
حکومت کی حکمتِ عملی برآمدات، پیداوار اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی پر مبنی ہے، تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائے جا سکیں، کاروباری اعتماد کو فروغ دیا جائے، اور ساختی اصلاحات نافذ کی جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور توقع ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک یہ 36 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ برآمدات میں بھی 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ شرحِ سود میں کمی کے باعث کیبور میں کمی آئی ہے، جس سے صنعت کو فائدہ پہنچا ہے۔
آئی ایم ایف سے حالیہ مذاکرات کے بارے میں اورنگزیب نے کہا کہ تمام مقداری اشاریے اطمینان بخش ہیں اور ساختی اہداف پر تاریخی پیش رفت ہوئی ہے، بالخصوص زرعی آمدنی پر صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے ٹیکس کا نفاذ۔ اگر آئی ایم ایف بورڈ اس کی منظوری دیتا ہے تو موجودہ ای ایف ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت "ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فنڈ” پر بھی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کے آخری مرحلے کا آغاز ایسے سخت فیصلوں سے ہوگا جو پاکستان کے معاشی مستقبل کی سمت طے کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت موجودہ پروگرام کو "آخری آئی ایم ایف پروگرام” بنانے کے لیے پختہ اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری کے لیے دوبارہ کوشش کرے گی اور نجکاری کمیشن کو 24 سرکاری اداروں کی فہرست فراہم کی گئی ہے۔ رواں مالی سال کے دوران ٹیکس کی وصولی میں 32.5 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ٹیکس فائلرز کی تعداد 60 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا عمل آسان بنایا جا رہا ہے، اور ملازمت پیشہ افراد گھروں سے ہی ریٹرن فائل کر سکیں گے، بغیر کسی ٹیکس وکیل یا مشیر کی مدد کے۔ توانائی کے شعبے میں انہوں نے بتایا کہ صنعت کے لیے بجلی کے نرخوں میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے، جسے صنعت نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ این ٹی ڈی سی اور ڈسکوز میں بھی پائیداری کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا: "اگر ہم واقعی آئی ایم ایف سے نجات چاہتے ہیں، تو ہمیں سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ ہم اپنے تمام وعدے پورے کریں گے۔”

