ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانپاکستانی نوجوان نے "ینگ وومن آف دی ایئر" ایوارڈ میں عالمی اعزاز...

پاکستانی نوجوان نے "ینگ وومن آف دی ایئر” ایوارڈ میں عالمی اعزاز حاصل کر لیا
پ

پاکستان کی نوجوان ناول نگار علشبہ خان بڑیچ نے ویمن چینجنگ دی ورلڈ ایوارڈز 2025 میں "ینگ وومن آف دی ایئر” کے عنوان سے عالمی ایوارڈ جیتا ہے۔ یہ ایوارڈ ایک معتبر عالمی پروگرام کے تحت دیا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا بھر کی خواتین کی غیرمعمولی کامیابیوں کو تسلیم کرنا ہے، خاص طور پر ان خواتین کی کوششوں کو جو مختلف شعبوں جیسے کاروبار، قیادت، تعلیم، صحت، جدت، پائیداری، اور ٹیکنالوجی میں دنیا میں مثبت تبدیلی لا رہی ہیں۔

علشبہ بڑیچ کو اس ایوارڈ کے لیے فائنلسٹ منتخب کیا گیا تھا، اور ان کی کامیابی نے پاکستان میں ایک خوشی کی لہر دوڑا دی تھی۔ انہیں 3 اپریل کو لندن میں پارک حیات ریور تھیمز میں منعقدہ ایک تقریب میں عالمی فاتح قرار دیا گیا، جہاں ایوارڈ انہیں معروف شخصیات، زمبابوے نژاد امریکی ڈاکٹر تیریرائی ٹرینٹ اور برطانیہ کی سارہ فرگوسن، ڈچس آف یارک نے دیا۔

پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ علشبہ کی ادبی کاوشوں کا مرکز بلوچستان سے متعلق غالب بیانیوں کو دوبارہ تحریر کرنا ہے۔ وہ پاکستان کی سب سے کم عمر ترین ناول نگار اور سوانح نگار ہیں، جنہوں نے 11 سال کی عمر میں اپنا پہلا ناول لکھا، 14 سال کی عمر میں کم عمر ترین سوانح عمری کی مصنفہ بنیں اور 16 سال کی عمر میں اپنی تصنیف کو شائع کیا۔

علشبہ بڑیچ کی سماجی سرگرمیاں بھی قابل ذکر ہیں۔ وہ یونیسیف پاکستان کے ساتھ نوجوان سفیر کے طور پر کام کر چکی ہیں، جہاں انہوں نے ذہنی صحت اور پولیو کے خاتمے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ وہ اس وقت وزیر اعظم شہباز شریف کی یوتھ ایڈوائزر اور نیشنل یوتھ کونسل کی رکن کے طور پر کام کر رہی ہیں، اور کرکٹ فرنچائز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی یوتھ ایمبیسیڈر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ جان لاک سمر یونیورسٹی کی میرٹ سکالرشپ حاصل کرنے والی بلوچستان کی پہلی پشتون خاتون ہیں۔

علشبہ نے اپنے ایوارڈ کے بعد کہا کہ "میرا ہمیشہ سے یہی مقصد رہا ہے کہ ان بیانیوں کو دوبارہ تحریر کیا جائے جو ہماری شناخت بنتی ہیں۔ یہ ایوارڈ میرے والدین، اساتذہ، بلوچستان اور پاکستان کے لیے دل کی گہرائیوں سے وقف ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "جب عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنے والوں میں پاکستان کا نام پکارا گیا، تو یہ محض ایک ذاتی کامیابی نہیں تھی بلکہ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ لچک اور ذہانت کی کہانیاں نوشکی اور کوئٹہ سے بھی اٹھ سکتی ہیں، نہ کہ صرف تنازعات اور عسکریت پسندی کی سرخیوں سے جو ہم عادی ہو چکے ہیں۔”

علشبہ بڑیچ نے اپنے ملک کے لیے عالمی ایوارڈ جیتنے کو سب سے بڑا اعزاز قرار دیا اور اس کامیابی کو اپنے لوگوں کی کامیابی بھی قرار دیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین