وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے افغان استحکام ضروری ہے، اور موجودہ بدامنی اور دہشت گردی کو غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت افغان باشندوں کو جبراً واپس نہیں بھیجے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "اگر کوئی افغان شہری خود واپس جانا چاہتا ہے تو ہم ان کی سہولت فراہم کریں گے، تاہم کسی کو بھی طاقت کے ذریعے نکالنے کا ارادہ نہیں ہے۔”
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں استحکام کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہے، اور موجودہ بدامنی "ہماری غلط پالیسیوں” کا نتیجہ ہے جن کی وجہ سے لوگوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا گیا۔
گنڈاپور نے کہا کہ افغانستان اور سرحدی علاقوں میں امن اور اعتماد کی بحالی خطے کی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ "ہم کوئی طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔ نہ صوبائی پولیس اور نہ ہی انتظامیہ کسی کو جبراً نکالے گی، بلکہ ہم ایسے کیمپ قائم کریں گے جہاں جو لوگ واپس جانا چاہیں، ان کی مدد کی جا سکے۔”
وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں اپنائی جا رہی، اور افغان پناہ گزینوں کے بارے میں وفاقی پالیسی میں بنیادی نقائص ہیں۔
دہشت گردی کے حوالے سے گنڈاپور نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا ایک سبب اس ملک کا اسلامی ریاست ہونا ہے، اور یہ خطہ اس لیے بھی تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہاں غزوہ ہند کی پیشگوئی کی جاتی ہے۔
انہوں نے دہشت گردی کو عالمی مفادات کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے مابین ہونے والے معاہدوں میں اس خطے کے معدنی وسائل کی طرف اشارہ کیا گیا، جس کے بعد تشدد میں اضافہ ہوا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات پاکستان کے مفاد میں ہونے چاہیے، اور ان مذاکرات کو اس صورت میں آگے بڑھایا جانا چاہیے جب کوئی قابل عمل راستہ سامنے آئے۔

