بھارتی پارلیمنٹ نے ایک متنازعہ بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت مسلم مذہبی اوقاف سے متعلق قوانین میں وسیع تر تبدیلیاں کی جائیں گی، جس پر مسلم برادری اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جمعہ کی صبح تک جاری رہنے والی 12 گھنٹے طویل بحث کے بعد راجیہ سبھا (ایوانِ بالا) نے 128 ووٹوں کے حق اور 95 مخالفت میں اس بل کو منظور کر لیا۔ اس سے ایک روز قبل لوک سبھا (ایوانِ زیریں) میں یہ بل 288 کے مقابلے میں 232 ووٹوں سے منظور ہو چکا تھا۔
یہ بل اب بھارتی صدر دروپدی مرمو کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کی جانب سے پیش کردہ اس بل کا مقصد بھارت میں مسلم فلاحی اداروں اور مذہبی اوقاف کے نظام میں تبدیلی لانا ہے، جن کی مجموعی مالیت 14 ارب ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔ خاص طور پر اس میں جائیدادوں کی ملکیت کے نئے ضوابط نے مسلمانوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
بل کے تحت، اوقاف بورڈز کو کسی بھی زمین پر اپنی ملکیت کو ثابت کرنے کے لیے ضلعی سطح پر سرکاری منظوری حاصل کرنا ہو گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تاریخی مساجد، مزارات اور قبرستان، جنہیں صدیوں قبل وقف کیا گیا تھا، ان کے پاس اکثر کوئی قانونی دستاویزات موجود نہیں ہوتیں، کیونکہ ان کا اندراج برطانوی یا نوآبادیاتی ادوار کے ریکارڈ میں نہیں ہوا تھا۔
اس تناظر میں، قانونی منظوری کی شرط سرکاری سطح پر مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کی زمین ضبط کیے جانے کا راستہ ہموار کر سکتی ہے، اور اس کے نتیجے میں طویل عدالتی تنازعات بھی جنم لے سکتے ہیں۔ ان خدشات کو ان شدت پسند ہندو گروہوں کے حالیہ بیانات سے مزید تقویت ملی ہے جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض تاریخی مساجد قدیم ہندو مندروں کے مقام پر تعمیر کی گئی تھیں۔
اپوزیشن کی شدید مخالفت
کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت جلد ہی سپریم کورٹ میں اس بل کے خلاف آئینی درخواست دائر کرے گی۔
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مسلمانوں کو نشانہ بنا کر معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بل کو "غیر آئینی” اور "بھارتی مسلمانوں کے لیے نقصان دہ” قرار دیا اور اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔
راہول گاندھی نے بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کو ان کے ذاتی قوانین اور جائیداد سے محروم کرنے کا "ایک ہتھیار” ہے۔ بدھ کے روز ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں انہوں نے خبردار کیا کہ یہ قانون آج مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے، لیکن کل کو دیگر اقلیتوں کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
جماعت اسلامی ہند کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے بھی اس بل کو "قابلِ مذمت اقدام” اور "خطرناک مثال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کے خلاف مزید امتیازی قانون سازی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

