ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیچین کا امریکہ سے درآمدات پر 34 فیصد نیا محصول عائد کرنے...

چین کا امریکہ سے درآمدات پر 34 فیصد نیا محصول عائد کرنے کا اعلان
چ

چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ سے درآمد ہونے والی تمام اشیاء پر 34 فیصد اضافی محصول عائد کرے گا، جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیجنگ پر لگائے گئے مساوی نرخ کے جواب میں ہوگا۔

چینی وزارت خزانہ کے مطابق، "امریکی ساختہ تمام درآمدی اشیاء پر موجودہ محصول کے علاوہ 34 فیصد اضافی ٹیکس نافذ کیا جائے گا۔” یہ اقدام 10 اپریل سے نافذ العمل ہوگا۔

چین نے امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی تجارتی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔ چینی ریاستی کونسل کے ٹیرف کمیشن نے کہا، "امریکہ کا یہ طرز عمل بین الاقوامی تجارتی ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا، یہ چین کے قانونی حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، اور یک طرفہ غنڈہ گردی کی ایک واضح مثال ہے۔”

اس نئے محصول کے ساتھ ساتھ، چین نے سات نایاب ارضیاتی دھاتوں کی برآمدات پر بھی کنٹرول نافذ کر دیا ہے، جن میں ایم آر آئی مشینوں میں استعمال ہونے والا گیڈولینیم اور صارفین کی الیکٹرانکس میں استعمال ہونے والا ایٹریئم شامل ہے۔ مزید برآں، چین نے امریکہ کی ڈرون بنانے والی کمپنی "اسکائیڈیو” سمیت 11 کمپنیوں کو اپنی "ناقابلِ اعتماد کمپنیوں” کی فہرست میں شامل کر دیا ہے، اور 16 امریکی کمپنیوں کو چینی مصنوعات کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

ٹرمپ کے محصولات عالمی تجارتی جنگ کو ہوا دے رہے ہیں

صدر ٹرمپ کے 180 سے زائد ممالک پر محصولات کے فیصلے نے نہ صرف امریکہ کے حریفوں بلکہ اتحادیوں کو بھی ردعمل پر مجبور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی اقتصادی نظام میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکہ پر عالمی اقتصادی تعاون میں اپنی روایتی قیادت سے منہ موڑنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے 3 اپریل کو جوابی اقدامات کے ایک محدود پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا، "عالمی معیشت اب وہ نہیں رہی جو کل تھی۔”

یورپی یونین نے بھی ردعمل دینے کا عندیہ دیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ میں سرمایہ کاری روک دیں، جب کہ جرمن چانسلر اولاف شولز پہلے ہی 31 مارچ کو یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ٹرمپ تعاون سے انکار کرتے ہیں تو یورپی یونین متحد ہو کر ان کے خلاف کھڑی ہو گی۔

عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کی ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو-ایویلا نے 3 اپریل کو خبردار کیا کہ امریکہ کے بڑھتے ہوئے تجارتی محصولات عالمی تجارت کو شدید بحران میں دھکیل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "عالمی تجارت کے امکانات اور اقتصادی ترقی پر اثرات اب واضح ہوتے جا رہے ہیں۔” انہوں نے خبردار کیا کہ جوابی محصولات ایک بڑی تجارتی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔

روسی سلامتی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین دمتری میدویدیف نے بھی 3 اپریل کو اپنے ٹیلیگرام چینل پر بیان دیتے ہوئے کہا، "امریکی محصولات کے یہ فیصلے عالمی تجارت پر گہرے اثرات ڈالیں گے۔ پرانے تجارتی راستے ٹوٹ جائیں گے، لیکن نئے راستے ابھریں گے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین