ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی محصولات کے نئے اعلان سے دنیا کے امیر ترین افراد کو...

امریکی محصولات کے نئے اعلان سے دنیا کے امیر ترین افراد کو ایک دن میں 208 ارب ڈالر کا دھچکہ
ا

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا کے 180 سے زائد ممالک پر جوابی محصولات کے اعلان کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں ارب پتی شخصیات کو تاریخ کے بڑے مالیاتی نقصانات میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا۔

بلومبرگ بلینیئر انڈیکس (BBI) کے مطابق، دنیا کے امیر ترین افراد کو صرف 24 گھنٹوں میں مجموعی طور پر 208 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ انڈیکس کی 13 سالہ تاریخ میں چوتھا بڑا اور کووڈ-19 کی وبا کے بعد سب سے بڑا مالیاتی نقصان قرار دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا کمپنی میٹا (جسے روس میں شدت پسند تنظیم قرار دے کر پابندی لگا دی گئی ہے) کے شیئرز جمعرات کو تقریباً 9 فیصد گر گئے، جس کے نتیجے میں اس کے بانی مارک زکربرگ کی دولت میں 9 فیصد، یعنی 17.9 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ BBI کے مطابق ڈالر کے اعتبار سے زکربرگ اس دن کے سب سے بڑے نقصان اٹھانے والے شخص قرار پائے۔

ایمازون کے مالک جیف بیزوس کو بھی شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ کمپنی کے حصص 9 فیصد گر گئے، جو اپریل 2022 کے بعد سب سے بڑی گراوٹ ہے، جس کے باعث بیزوس کی دولت میں 15.9 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔

ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مالک ایلون مسک، جو صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، نے بھی جمعرات کو 11 ارب ڈالر کھو دیے، جب کہ ٹیسلا کے حصص میں تقریباً 5.5 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔

مارکیٹس میں شدید ہلچل

ٹرمپ کی محصولات کی پالیسی نے عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی لہر دوڑا دی۔ تاجر وائٹ ہاؤس کے اعلان کے منتظر رہے جب کہ امریکی ڈالر، یورو کے مقابلے میں 1 فیصد نیچے آ گیا۔ اسی طرح برطانوی پاؤنڈ اور سوئس فرانک کے مقابلے میں بھی ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی۔

امریکی اسٹاک مارکیٹس میں بھی غیر یقینی کی فضا غالب رہی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے کم از کم 10 فیصد کی نئی محصولات کے اعلان کے بعد اسٹاکس میں نمایاں گراوٹ آئی۔

ایس پی ڈی آر ایس اینڈ پی 500 ای ٹی ایف ٹرسٹ (SPY) میں تقریباً 2 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جب کہ نیسڈیک 100 انڈیکس سے منسلک انویسکو QQQ ای ٹی ایف میں 3.3 فیصد گراوٹ آئی۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج ETF ٹرسٹ (DIA) بھی 1 فیصد نیچے آ گیا۔

بدھ کی شام ٹریڈنگ میں بڑے درآمد کنندگان کو بھی نقصان اٹھانا پڑا۔ نائکی کے شیئرز 6 فیصد اور جنرل موٹرز کے 3 فیصد نیچے آ گئے۔ پہلے سے ہی محصولات کے خدشات کے باعث دباؤ کا شکار کمپنیوں جیسے کہ این ویڈیا اور ٹیسلا کے حصص میں بھی مزید 3 فیصد کی کمی آئی۔

ادھر سرمایہ کاروں کی نظریں محفوظ سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو گئیں۔ سونے کے فیوچر کی قیمت 20.20 ڈالر (0.6 فیصد) بڑھ کر 3,166.20 ڈالر فی اونس ہو گئی، جب کہ اسپاٹ گولڈ بھی مارکیٹ بند ہونے تک 3,127 ڈالر فی اونس کے آس پاس رہا۔

کرپٹو مارکیٹ پر بھی اس فیصلے کے اثرات مرتب ہوئے۔ بٹ کوائن کی قیمت 3 اپریل کو 5 فیصد سے زائد گر گئی اور یہ بائنینس پر 81,812 ڈالر تک آ گئی، جو 24 گھنٹوں میں 5.93 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ کوائن مارکیٹ کیپ کے مطابق بٹ کوائن کی اوسط قیمت 81,769 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین