ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کے ٹیرف نے تجارتی جنگ کو ہوا دی، چین اور یورپی...

ٹرمپ کے ٹیرف نے تجارتی جنگ کو ہوا دی، چین اور یورپی یونین کا سخت ردعمل
ٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وسیع پیمانے پر جوابی محصولات کے اعلان نے عالمی تجارتی جنگ کو نئی شدت بخشی، جس پر چین اور یورپی یونین نے امریکہ کو سخت جوابی اقدامات کی دھمکی دی۔ اس پیش رفت نے نہ صرف عالمی معیشت میں بے یقینی کو جنم دیا بلکہ دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

ٹرمپ نے بدھ کے روز "یومِ آزادی” کا نام دے کر تمام امریکی درآمدات پر 10 فیصد بنیادی ٹیرف اور مختلف ممالک پر مزید بلند سطح کے جوابی محصولات کا اعلان کیا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان اقدامات کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈیوں میں فوری اضطراب دیکھنے میں آیا۔ دنیا بھر کے رہنماؤں نے ان محصولات کی سخت مذمت کرتے ہوئے جواب دینے کا عندیہ دیا۔

یہ بنیادی 10 فیصد ٹیرف 5 اپریل سے نافذالعمل ہوگا، جبکہ بلند شرح والے جوابی محصولات 9 اپریل سے لاگو کیے جائیں گے۔

چین نے، جس کی امریکہ کو برآمدات پر 54 فیصد نیا ٹیرف عائد ہوا ہے، انتقامی اقدامات کی دھمکی دی، جبکہ یورپی یونین نے بھی اپنے ردعمل کی تیاری کا اعلان کیا۔ واشنگٹن کے حلیف اور حریف، دونوں نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ عالمی تجارت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے کہا: "اس اقدام کے نتائج دنیا بھر کے لاکھوں افراد کے لیے خطرناک ہوں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ سے مذاکرات ناکام ہوئے تو یورپی یونین بھی ٹرمپ کی جانب سے عائد محصولات کا بھرپور جواب دے گی۔ یورپی یونین پر 20 فیصد کا جوابی ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔

چین نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً یہ محصولات واپس لے، اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی اقدامات کا عندیہ دیا۔ چینی وزیرِ تجارت کا کہنا تھا کہ امریکہ کا یہ فیصلہ سالوں پر محیط کثیرالجہتی تجارتی معاہدوں سے حاصل شدہ مفادات کے توازن کو یکسر نظر انداز کرتا ہے، اور ان فوائد کو بھی بھلاتا ہے جو امریکہ کو عالمی تجارت سے حاصل ہوتے رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اس کے ساتھ ہی ایک ایگزیکٹو حکم پر دستخط کیے، جس کا ہدف "ڈی منیمِس” تجارتی چھوٹ کا خاتمہ تھا۔ اس کے تحت چین سے 800 ڈالر یا اس سے کم مالیت کی اشیاء پر کوئی درآمدی محصول نہیں لگتا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدام 2 مئی سے مؤثر ہوگا اور چین و ہانگ کانگ سے آنے والی اشیاء پر لاگو ہوگا۔

نتائج اور دعوے

ٹرمپ نے ان محصولات کو "جوابی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان محصولات اور غیرمحصولی رکاوٹوں کا ردعمل ہے جو امریکی برآمدات پر پہلے سے عائد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات امریکی صنعتی پیداوار اور روزگار کو بحال کرنے میں مددگار ہوں گے۔

انہوں نے کہا: "ہماری قوم کو دہائیوں تک قریب و دور کے ممالک نے لوٹا، تاراج کیا اور تباہ کیا۔”

تاہم، آزاد ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ ان محصولات سے عالمی معیشت کی نمو سست پڑ سکتی ہے، کساد بازاری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، اور ایک عام امریکی گھرانے پر سالانہ ہزاروں ڈالر کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ کے چیف اکنامک ایڈوائزر اور اقتصادی مشاورتی کونسل کے چیئرمین اسٹیفن میران نے تسلیم کیا کہ ان اقدامات سے قلیل مدتی معاشی خلل ضرور پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا: "کیا مختصر مدتی جھٹکے آئیں گے؟ بالکل،” مگر یہ بھی کہا کہ طویل مدتی بنیادوں پر یہ امریکی معیشت کو مضبوطی دے سکتے ہیں۔

ڈی ویئر فنانشل ایڈوائزری گروپ کے سی ای او نائجل گرین نے کہا: "یہ وہ طریقہ ہے جس سے آپ دنیا کی معاشی مشین کو ناکارہ بناتے ہیں اور ساتھ ہی اسے تیز کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔” ان کے مطابق، "ان محصولات سے ہزاروں روزمرہ اشیاء کی قیمتیں — موبائل فونز سے لے کر خوراک تک — بڑھیں گی، اور مہنگائی کی اس لہر کو مزید تیز کریں گی جو پہلے ہی قابو سے باہر ہے۔”

مالیاتی منڈیوں میں ہلچل

ٹرمپ کے ان اقدامات نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی شدید ردعمل پیدا کیا۔ تاجر وائٹ ہاؤس کے اعلان کے منتظر تھے، جب کہ امریکی ڈالر 2 اپریل کو یورو کے مقابلے میں 1 فیصد نیچے آ گیا، اور دیگر بڑی کرنسیوں جیسے برطانوی پاؤنڈ اور سوئس فرانک کے مقابلے میں بھی کمزور پڑا۔

صدر ٹرمپ کے 10 فیصد یا اس سے زائد محصولات کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹس میں آفٹر آورز ٹریڈنگ کے دوران گراوٹ دیکھی گئی۔

ایس پی ڈی آر ایس اینڈ پی 500 ای ٹی ایف ٹرسٹ (SPY) میں 2 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جبکہ انویسکو QQQ ETF، جو نیس ڈیک 100 انڈیکس سے منسلک ہے، 3.3 فیصد نیچے آ گیا۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج ای ٹی ایف (DIA) میں بھی 1 فیصد کمی ہوئی۔

بدھ کی شام بڑی درآمدی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ نائکی کے حصص میں 6 فیصد اور جنرل موٹرز کے حصص میں 3 فیصد کی گراوٹ آئی۔ گزشتہ مہینے سے ٹیرف خدشات کے تحت دباؤ کا شکار کمپنیاں جیسے Nvidia اور Tesla بھی تقریباً 3 فیصد نیچے آ گئیں۔

دوسری جانب، سونے کے فیوچر کی قیمت میں $20.20 (0.6%) کا اضافہ ہوا، اور وہ $3,166.20 فی اونس پر بند ہوا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے متوقع تجارتی کشیدگی سے قبل محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رخ کیا۔ مارکیٹ بند ہونے تک اسپاٹ گولڈ $3,127 کے آس پاس رہا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین