اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے بھرپور حامی ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کے باوجود نیتن یاہو کو ہنگری مدعو کر لیا۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی جمعرات کے روز ہنگری آمد کے موقع پر ہنگری کی حکومت نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) سے علیحدگی کے فیصلے کا اعلان کر دیا۔
ہنگری کے چیف آف اسٹاف، گرگے گیولاش، نے جمعرات کے روز سرکاری خبر رساں ادارے MTI کو بتایا کہ حکومت اسی روز عدالت سے انخلا کے عمل کا آغاز کرے گی۔ تاہم، ہنگری کی جانب سے عدالت چھوڑنے کے ارادے کی ابتدائی خبر اس وقت سامنے آئی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں آئی سی سی کے پراسیکیوٹر خلیل خان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
وزیراعظم وکٹر اوربان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر لکھا:
"وقت آ چکا ہے کہ ہم اس بین الاقوامی تنظیم میں اپنی شمولیت کا ازسرِنو جائزہ لیں جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔”
اوربان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اسرائیل کی کھلے عام حمایت کا اظہار کیا ہے، جس کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوا جب انہوں نے نیتن یاہو کو آئی سی سی کی جانب سے جنگی جرائم کے الزامات پر وارنٹ جاری ہونے کے محض ایک دن بعد ہنگری مدعو کر لیا۔ ہنگری کے وزیراعظم پہلے بھی یورپی یونین کے ان بیانات یا اقدامات کو روکنے کی تیاری ظاہر کر چکے ہیں جو اسرائیل پر تنقید کرتے ہوں۔
اگرچہ ہنگری آئی سی سی کا بانی رکن ہے اور اصولی طور پر اسے عدالت کے جاری کردہ وارنٹس کی بنیاد پر مطلوبہ افراد کو گرفتار کر کے حوالے کرنا لازم ہے، تاہم اوربان نے واضح طور پر کہا کہ ان کا ملک عدالت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا، جسے انہوں نے "بے باک، منافقانہ اور مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیا۔
ہنگری نے 1999 میں "روم اسٹیٹیوٹ” پر دستخط کیے تھے—جو کہ آئی سی سی کے قیام کا بنیادی معاہدہ ہے—اور اسے 2001 میں وکٹر اوربان کے پہلے دور حکومت میں توثیق بھی دی گئی، لیکن اس کے باوجود ہنگری نے آج تک اس معاہدے کی دفعات کو اپنے آئینی ڈھانچے میں شامل نہیں کیا۔ اس بنیاد پر حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ قانونی طور پر عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کی پابند نہیں ہے۔
فلسطین کے حامی اداروں کا ہنگری سے نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ
فلسطین نواز مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے نیتن یاہو کے دورہ ہنگری کے پیشِ نظر حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم کو گرفتار کرے۔ نیتن یاہو کا دورہ 6 اپریل کو ختم ہو گا۔
یورپی گرین پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ نیتن یاہو کو گرفتار کر کے دی ہیگ میں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پارٹی کے شریک صدر، کیارن کفی، کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اور قومی حکومتوں پر بین الاقوامی قوانین کا احترام لازم ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم میں ملوث افراد کو جواب دہ ٹھہرانا ان کی ذمہ داری ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے ہنگری سے اپیل کی ہے کہ اگر نیتن یاہو ملک میں داخل ہوں تو انہیں گرفتار کیا جائے۔ تنظیم نے اوربان کی دعوت کو سنگین جرائم کے متاثرین کی توہین قرار دیا ہے۔
اسی طرح، فلسطین نواز تنظیم ہند رجب فاؤنڈیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کے دورہ ہنگری کو چیلنج کرنے کے لیے فوری قانونی اقدامات اٹھا رہی ہے، اس باوجود کہ ان کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں آئی سی سی نے وارنٹ جاری کر رکھا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ہیڈ آف گلوبل ریسرچ، ایڈووکیسی، اینڈ پالیسی، ایریکا گویوارا-روزاس نے 31 مارچ کو ہنگری سے مطالبہ کیا کہ وہ نیتن یاہو کو ان کے آئندہ دورے کے دوران گرفتار کرے تاکہ آئی سی سی کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو پر جنگی جرائم جیسے "بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا، شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا” اور "قتل، ظلم و ستم اور غیر انسانی اقدامات جیسے انسانیت کے خلاف جرائم” کا الزام ہے۔

