اسلام آباد، 1 اپریل – پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان، جو اس وقت قید میں ہیں، کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔ انہیں یہ نامزدگی ان کے دورِ حکومت، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے کوششوں کے اعتراف میں دی گئی ہے۔
یہ اعلان پاکستان ورلڈ الائنس (PWA) کے ارکان کی جانب سے کیا گیا، جو کہ ایک وکالت گروپ ہے اور گزشتہ دسمبر میں قائم ہوا تھا۔ ان ارکان کا تعلق ناروے کی سیاسی جماعت "پارٹیئٹ سینٹرم” سے بھی ہے۔
پارٹیئٹ سینٹرم نے ایک بیان میں کہا:
"ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ‘پارٹیئٹ سینٹرم’ نے، ایک مجاز نامزد کنندہ کے ساتھ مل کر، پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے، جو پاکستان میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے فروغ کے لیے ان کے کام کا اعتراف ہے۔”
یہ دوسرا موقع ہے جب عمران خان کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 2019 میں بھی انہیں جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ کی کوششوں پر نامزد کیا گیا تھا۔
نوبل انعام کا انتخابی عمل
ہر سال ناروے کی نوبل کمیٹی سینکڑوں نامزدگیاں وصول کرتی ہے اور آٹھ ماہ پر مشتمل طویل عمل کے بعد فاتح کا اعلان کیا جاتا ہے۔
عمران خان کے مقدمات اور قید
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ رواں سال جنوری میں، انہیں اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے ایک مقدمے میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
یہ چوتھا بڑا مقدمہ ہے جس میں عمران خان کو سزا سنائی گئی۔ ان پر پہلے ریاستی تحائف فروخت کرنے، ریاستی راز افشا کرنے اور غیر قانونی نکاح کے الزامات میں بھی سزائیں سنائی گئی تھیں، تاہم عدالتوں نے ان مقدمات میں سزائیں معطل یا ختم کر دی تھیں۔
عمران خان کی سیاسی جدوجہد
عمران خان کو اپریل 2022 میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ وہ تمام الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں اور انہیں مسترد کرتے ہیں۔

