القصام بریگیڈز کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو، جس میں الکانا بوہبوت اور یوسف حائم اوہانا نظر آ رہے ہیں، اسرائیلی بیانیے کی نفی کرتی ہے کہ غزہ میں یرغمالیوں کے ساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے۔
یرغمالیوں کے بیانات کے اہم نکات:
- جنگ بندی کے دوران حماس نے ان کا خیال رکھا:
- یرغمالیوں کا کہنا ہے کہ جب جنگ بندی نافذ ہوئی اور سرحدی گزرگاہیں کھولی گئیں، تو ان کے حالات بہتر ہو گئے۔
- انہیں کھانے، تازہ ہوا، اور بہتر سہولیات فراہم کی گئیں۔
- اسرائیلی بمباری نے ان کی جان کو خطرے میں ڈال دیا:
- قیدیوں نے براہ راست اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرایا کہ اس نے 18 مارچ کو غزہ پر بمباری شروع کر کے ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
- ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں سے ان کی زندگیوں کو مزید خطرات لاحق ہو گئے ہیں بجائے اس کے کہ انہیں محفوظ طریقے سے رہا کرایا جائے۔
- اسرائیلی حکومت پر آواز دبانے کا الزام:
- بوہبوت نے الزام لگایا کہ اسرائیلی حکومت آزاد ہونے والے یرغمالیوں کی آواز کو دبا رہی ہے۔
- انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو قیدی پہلے ان کے ساتھ تھے اور اب رہا ہو چکے ہیں، انہیں بولنے دیا جائے اور حقیقت سامنے آنے دی جائے۔
یرغمالیوں کے بیانات کے ممکنہ اثرات:
- یہ ویڈیو اسرائیل کی غزہ میں جاری فوجی کارروائی کے جواز پر سوالات اٹھاتی ہے۔
- یہ اسرائیلی حکومت، خاص طور پر نیتن یاہو انتظامیہ پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
- یہ اسرائیلی عوام میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے حق میں احتجاجی مظاہروں کو مزید ہوا دے سکتی ہے۔
یہ ویڈیو اسرائیل کے اندر مزید بحث کو جنم دے سکتی ہے، جہاں پہلے ہی جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے مظاہرے شدت اختیار کر رہے ہیں۔
"ہم چاہتے ہیں کہ آپ جانیں کہ حماس نے ہمیں یہ کہنے کے لیے نہیں کہا، یہ ویڈیو کسی نفسیاتی جنگ کا حصہ نہیں ہے۔ ہم نے خود درخواست کی اور التجا کی کہ ہمیں سنا جائے۔ براہ کرم ہماری آواز سنیں،” اوہانا نے اپیل کی۔
یہ ویڈیو اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے تقریباً ایک ہفتہ قبل جنوری میں فلسطینی مزاحمت کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی کے باوجود غزہ پر بمباری دوبارہ شروع کر دی۔

