اسرائیلی حراست میں تشدد کے بعد فلسطینی آسکر یافتہ ہدایتکار حمدان بلال رہا
اسرائیلی قابض حکام نے فلسطینی آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایتکار حمدان بلال کو رہا کر دیا، جنہیں گزشتہ روز اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
حراست میں تشدد
- حمدان بلال کو اسرائیلی فوجی اڈے میں ہتھکڑیاں لگا کر پوری رات قید رکھا گیا۔
- اسرائیلی شریک ہدایتکار یوول ابراہم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ میں لکھا:
"حمدان بلال اب آزاد ہیں اور اپنے خاندان کے پاس واپس جا رہے ہیں، لیکن انہیں قید کے دوران مارا پیٹا گیا اور ہتھکڑیاں پہنائی گئیں۔”
عالمی مذمت اور اظہار یکجہتی
- انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلمی برادری نے حمدان بلال کی گرفتاری اور ان پر تشدد کی مذمت کی ہے۔
- فلسطینی فنکاروں، صحافیوں، اور دانشوروں کو نشانہ بنانے پر اسرائیل کو بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔
پس منظر
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسرائیل فلسطینی علاقوں میں فوجی جبر، گرفتاریوں اور تشدد کو مزید بڑھا رہا ہے، خاص طور پر فنکاروں اور سماجی کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی حراست میں تشدد: آسکر یافتہ فلسطینی ہدایتکار حمدان بلال اسپتال منتقل
فلسطینی آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایتکار حمدان بلال، جنہیں اسرائیلی فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا، کو الخلیل (ہیبرون) کے ایک اسپتال میں علاج کے لیے داخل کر دیا گیا۔
"پورے جسم پر تشدد کیا گیا”
- فلسطینی ہدایتکار باسل عدرا نے انسٹاگرام پر حمدان بلال کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا:
"حمدان کو رہا کر دیا گیا ہے، لیکن وہ اس وقت الخلیل کے اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہیں فوجیوں اور آبادکاروں نے پوری رات مارا پیٹا۔ فوجیوں نے انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ہتھکڑی لگا کر پوری رات فوجی اڈے میں قید رکھا۔”
آبادکاروں کا حملہ اور املاک کی تباہی
- اسرائیلی آبادکاروں نے حمدان بلال کے مغربی کنارے کے گاؤں سوسیا میں ان کے گھر پر حملہ کیا۔
- انہیں نہ صرف وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کی گاڑی کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں، ٹائر کاٹ دیے گئے، اور ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
- گرفتاری کے بعد اسرائیلی فورسز نے انہیں ایک فوجی اڈے میں لے جا کر حراست میں رکھا۔
عالمی ردِعمل
- انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔
- فلسطینی فنکاروں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف اسرائیلی مظالم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
- اسرائیل کو بین الاقوامی برادری کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث۔

