ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانمینگل کی سربراہی میں بی وائی سی رہنماؤں کی حراست کے خلاف...

مینگل کی سربراہی میں بی وائی سی رہنماؤں کی حراست کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان
م

اختر مینگل کا 28 مارچ کو واہ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اعلان کیا ہے کہ وہ 28 مارچ کو واہ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کی قیادت کریں گے، جو بلوچ یوتھ کونسل (BYC) کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف ہوگا۔ اپنے X (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں اختر مینگل نے کہا کہ وہ اس لانگ مارچ کی قیادت کریں گے، جو "ہماری بیٹیوں کی گرفتاری اور ہماری ماؤں اور بہنوں کی بے حرمتی کے خلاف” ہوگا۔

انہوں نے بلوچ عوام، بشمول مرد، خواتین، بزرگ اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کریں۔

اختر مینگل: "یہ صرف بیٹیوں کی گرفتاری کا نہیں، قومی وقار اور وجود کا سوال ہے”

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ "یہ صرف ہماری بیٹیوں کی گرفتاری کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ہمارے قومی وقار، ہماری عزت اور ہمارے وجود کا سوال ہے۔”

اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا: "ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک ہماری بیٹیاں، بہنیں اور مائیں محفوظ نہیں ہو جاتیں۔”

پرامن احتجاج اور انصاف کے مطالبے پر زور

بی این پی (مینگل) کے سربراہ نے کہا:
"ہماری تحریک پرامن ہے۔ ہم ظلم اور جبر کے خلاف نکلے ہیں۔ جب تک ہمیں انصاف نہیں ملتا، ہم رکیں گے نہیں۔”

انہوں نے مزید کہا: "ہمارا کوئٹہ سے واہ تک مارچ صرف چند قدموں کا سفر نہیں، بلکہ ضمیر کی بیداری کا سفر ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم متحد ہو کر ایک ہی آواز بلند کریں۔”

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے مظاہرین پر کریک ڈاؤن

گزشتہ ہفتے بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا تھا، جن میں اس کے مرکزی آرگنائزر ماہ رنگ بلوچ بھی شامل ہیں۔جمعہ کے روز مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا، جس میں مظاہرین نے بلٹ پروف گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جبکہ پولیس نے آنسو گیس، واٹر کینن اور ہوائی فائرنگ سے جواب دیا۔ یہ واقعہ سریاب روڈ، بلوچستان یونیورسٹی کے قریب پیش آیا۔

پرتشدد جھڑپوں پر متضاد بیانات

صوبائی حکومت کا موقف: حکومتی ترجمان شاہد رند نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین نے پہلے پتھراؤ اور بلاجواز تشدد کیا، جس سے کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں ایک خاتون کانسٹیبل بھی شامل ہیں۔

BYC کا الزام: پولیس نے "حد سے زیادہ طاقت” استعمال کی، حتیٰ کہ براہ راست فائرنگ کی، جس سے تین افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔

حکومتی مؤقف: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قانون کے مطابق کارروائی کی اور قومی شاہراہ کو کلیئر کرایا۔
BYC کا مؤقف: پولیس نے غیر ضروری طاقت استعمال کرکے پرامن احتجاج کو دبانے کی کوشش کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین