ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیعالمی عدالت میں سوڈان کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر نسل...

عالمی عدالت میں سوڈان کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر نسل کشی کا مقدمہ
ع

ہیگ، 28 مارچ – عالمی عدالت نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وہ سوڈان کی جانب سے دائر کردہ مقدمہ سنے گی، جس میں متحدہ عرب امارات پر نسل کشی کے کنونشن کی خلاف ورزی اور نیم فوجی دستوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم، اس نے رواں ماہ کہا تھا کہ وہ سوڈان کے مقدمے کو خارج کروانے کی کوشش کرے گا اور اس قانونی شکایت کو "کسی بھی قانونی یا حقیقی بنیاد سے خالی” قرار دیا تھا۔

سوڈان نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو مسلح کر رہا ہے، جو دو سال سے سوڈانی فوج کے خلاف خانہ جنگی میں مصروف ہے۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات نے اس الزام کی تردید کی ہے، لیکن اقوام متحدہ کے ماہرین اور امریکی قانون سازوں نے ان الزامات کو مستند قرار دیا ہے۔

سوڈان کی جانب سے ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالتِ انصاف (عالمی عدالت) میں دائر شکایت 2023 میں مغربی دارفور میں آر ایس ایف اور اس سے منسلک عرب ملیشیاؤں کی جانب سے غیر عرب نسل سے تعلق رکھنے والے مسالیت قبیلے پر ہونے والے حملوں سے متعلق ہے، جن کی تفصیلات رائٹرز نے دستاویزی طور پر پیش کی ہیں۔

امریکہ نے رواں سال جنوری میں ان حملوں کو نسل کشی قرار دیا تھا۔

سوڈان نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کو ہدایت دے کہ وہ دارفور میں نسل کشی کے اقدامات کو روکے۔

عدالت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 10 اپریل کو سوڈان کی درخواست پر سماعت کرے گی۔

چونکہ عالمی عدالت میں مقدمات کے حتمی فیصلے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے ریاستیں ہنگامی اقدامات کی درخواست کر سکتی ہیں تاکہ معاملہ مزید نہ بگڑے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین