معروف اداکار جواکین فینکس، پینیلوپ کروز اور رچرڈ گیر سمیت کئی ہالی ووڈ شخصیات نے اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز کی جانب سے فلسطینی فلم ساز حمدان بلال پر حملے کی مذمت نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
اکیڈمی کو شدید تنقید کا سامنا ہے کہ اس نے فلسطینی فلم ساز اور ‘نو ادر لینڈ’ کے شریک ہدایت کار حمدان بلال کی حمایت نہیں کی، جنہیں حال ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں نے حملے کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں اسرائیلی فوج نے گرفتار کر لیا۔
بلال، جن کی دستاویزی فلم نے اس سال کے اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین ڈاکیومینٹری کا اعزاز حاصل کیا، نے بتایا کہ انہیں گزشتہ ہفتے حملے کا نشانہ بنایا گیا، اسلحے کی نوک پر حراست میں لیا گیا اور ایک فوجی مرکز میں رکھا گیا جہاں سپاہیوں نے ان کے نام اور "آسکر” کا حوالہ اپنی شفٹ تبدیلی کے دوران دیا۔ انہیں منگل کے روز "پتھراؤ” کے الزام میں رہا کیا گیا۔ اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بلال نے کہا کہ اس واقعے کی "بربریت” نے انہیں یہ محسوس کرایا کہ یہ سب کچھ ان کے آسکر جیتنے کی وجہ سے کیا گیا۔
جبکہ کئی بین الاقوامی فلمی تنظیموں نے فوری طور پر اس حملے کی مذمت کی، امریکہ میں قائم اکیڈمی نے ابتدائی طور پر خاموشی اختیار کی۔ بعد ازاں، اکیڈمی نے اپنے اراکین کو ایک خط جاری کیا جس میں کہا گیا کہ وہ "فنکاروں کو ان کے کام یا خیالات کی وجہ سے نقصان پہنچانے یا دبانے” کی مذمت کرتے ہیں، تاہم اس بیان میں بلال کا نام شامل نہیں تھا۔
اکیڈمی کے مبہم ردعمل پر فلمی برادری میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ 600 سے زائد اکیڈمی اراکین نے اس قیادت پر تنقید کرتے ہوئے ایک دستخط شدہ خط جاری کیا۔ خط میں کہا گیا، "یہ ناقابلِ قبول ہے کہ ایک ادارہ مارچ کے پہلے ہفتے میں کسی فلم کو ایوارڈ سے نوازے اور چند ہفتے بعد ہی اس کے فلم ساز کی حمایت سے انکار کر دے۔”
خط میں مزید کہا گیا، "ہم فلسطینی آسکر یافتہ فلم ساز حمدان بلال پر اسرائیلی آباد کاروں اور فورسز کے وحشیانہ حملے اور غیر قانونی گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہیں۔” دستخط کنندگان کے مطابق، اکیڈمی کا سرکاری ردعمل "اس سنگین لمحے کے مطابق نہیں تھا۔”
اداکار جواکین فینکس، پینیلوپ کروز اور رچرڈ گیر سمیت کئی ہالی ووڈ شخصیات نے اکیڈمی کی خاموشی پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے واضح مؤقف اختیار کیا جائے۔
جمعہ کے روز، ڈیڈلائن کی ایک رپورٹ کے مطابق، اکیڈمی کے بورڈ نے بڑھتے ہوئے دباؤ کو دیکھتے ہوئے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا، تاہم تاحال کوئی نیا سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
بلال کے شریک ہدایت کار، اسرائیلی فلم ساز یوول ابراہام نے بھی اس صورت حال پر مایوسی کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک پوسٹ میں انہوں نے اکیڈمی کے خط پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "ہماری تنقید کے بعد، اکیڈمی کے قائدین نے اراکین کو یہ ای میل بھیجی جس میں انہوں نے حمدان پر حملے پر اپنی خاموشی کا جواز پیش کیا کہ انہیں ‘منفرد خیالات’ کا احترام کرنا چاہیے۔”
‘نو ادر لینڈ’، جو مقبوضہ فلسطینی علاقے مسافر یطا میں فلسطینیوں کی بے دخلی پر مبنی ہے، تاحال امریکہ میں کسی بڑے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے ذریعے ریلیز نہیں کی جا سکی، حالانکہ یہ فلم آسکر جیت چکی ہے۔

