اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے شمالی فلسطین کی جانب داغے گئے راکٹ حملوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی تردید کرتے ہوئے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا اعادہ کیا ہے۔
حزب اللہ کے ایک سینئر ذریعے نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ لبنان میں اسلامی مزاحمت نومبر 2024 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی مکمل طور پر پابند ہے۔
ذرائع کے مطابق، حزب اللہ کا شمالی مقبوضہ فلسطین کی طرف داغے گئے راکٹ حملوں سے کوئی تعلق نہیں اور اس قسم کے واقعات محض اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کو جواز فراہم کرنے کے لیے تراشے گئے بہانے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج کے ترجمان نے شمالی علاقوں کی طرف دو راکٹ فائر کیے جانے کا دعویٰ کیا، جن میں سے ایک کو روک دیا گیا جبکہ دوسرا لبنانی حدود میں گرا۔
مقبوضہ شمالی علاقوں میں کئی یہودی بستیاں، خصوصاً کریات شمونہ، مرجالیوت اور تل ہائی میں سائرن بجائے گئے۔ اسرائیلی میڈیا نے کریات شمونہ میں دو دھماکوں کی بھی اطلاع دی۔
اس اعلان کے بعد المیادین کے نامہ نگار نے جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاع دی۔
جارحیت کے دوران قاقعیات الجسر اور کفارسیر کے درمیان کا علاقہ نشانہ بنایا گیا، جبکہ الخیام کے مشرقی علاقے پر آرٹلری اور فاسفورس بمباری کی گئی۔ کفارکیلا کو بھی نشانہ بنایا گیا، اور ایک اسرائیلی گولہ الطیبہ کی جانب داغا گیا۔
المیادین کے نامہ نگار نے مزید رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے علاقے حولا، مرجایون میں ایک پری فیبریکیٹڈ مکان پر ساؤنڈ بم گرایا۔
اسرائیلی حکام کی لبنان کو دھمکیاں
اسرائیلی وزیر برائے داخلی سلامتی، اسرائیل کاٹز نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کا دارالحکومت بیروت کریات شمونہ کے برابر ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ "اگر کریات شمونہ اور جلیل کی بستیوں میں سکون نہیں ہوگا، تو پھر بیروت میں بھی سکون نہیں ہوگا۔”
اسرائیلی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ لبنانی حکومت جلیل کی طرف فائر کیے گئے ہر حملے کی براہ راست ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم 7 اکتوبر جیسے حالات کی واپسی کی اجازت نہیں دیں گے، ہم جلیل کے رہائشیوں کی سلامتی کو یقینی بنائیں گے اور ہر ممکن خطرے کے خلاف کارروائی کریں گے۔”
اسی اثنا میں، متولا کے میئر ڈیوڈ ازولائی نے کہا، "یہ بالکل وہی صورتحال ہے جس کا ہمیں خدشہ تھا۔ گزشتہ 23 سالوں سے یہی کچھ جنوبی علاقے میں ہو رہا ہے۔ ہم اسے برداشت نہیں کریں گے اور اس سے اتفاق نہیں کریں گے۔ اسرائیلی حکومت کو آج ہی قرارداد 1701 کو منسوخ کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔”

