اسرائیلی قابض افواج نے بیروت کے گنجان آباد علاقے میں واقع ایک عمارت کو نشانہ بنایا، جو دو اسکولوں کے قریب واقع تھی۔
تین ڈرون حملوں کے بعد، اسرائیلی جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوبی نواحی علاقے حدت میں ایک عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جسے پہلے ہی حملے کی دھمکی دی جا چکی تھی۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اسکول کے اوقات اور رش کے دوران علاقے میں شہریوں کی آمدورفت عروج پر ہوتی ہے۔
اسی دوران، اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر شدید فضائی حملے بھی کیے۔
المیادین کے نمائندے کے مطابق، جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ میں واقع گاؤں کفرتبنت میں امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں، جہاں اسرائیلی بمباری سے ایک رہائشی مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔
لبنانی وزارت صحت کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ کفرتبنت پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں تین افراد شہید ہوئے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔
علاوہ ازیں، اسرائیلی جارحیت کے باعث آج جنوبی لبنان میں 18 افراد زخمی ہوئے، جن میں 6 بچے اور 8 خواتین شامل ہیں۔
حزب اللہ: اسرائیلی جارحیت کی توجیہات بے بنیاد ہیں
حزب اللہ کے ایک سینئر رہنما نے جمعہ کے روز واضح کیا کہ نومبر 2024 میں طے پانے والی جنگ بندی کی پاسداری کی جا رہی ہے اور صبح کے وقت مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں پر داغے گئے راکٹوں سے حزب اللہ کا کوئی تعلق نہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جواز پیدا کرنے کی کوشش ہیں، جس کے تحت لبنان پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔
اسی تناظر میں، حزب اللہ کے میڈیا ونگ نے اعلان کیا کہ اسرائیلی بمباری کے پیش نظر بیروت کے جنوبی علاقے میں یوم القدس کی تقریب منسوخ کر دی گئی ہے۔
اسرائیل کی کھلی دھمکیاں
اسرائیلی وزیر برائے سیکیورٹی، اسرائیل کاٹز، نے بیروت کو مقبوضہ علاقے کریات شمونہ کے مترادف قرار دیتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر کریات شمونہ اور گلیل کے علاقوں میں امن نہیں ہوگا، تو بیروت بھی محفوظ نہیں رہے گا۔”
اسرائیلی جنگی طیاروں نے اقلیم التفاح کے پہاڑی سلسلے، کفرتبنت، برکت الجبور، کفارحونا، جبل صافی، عرمتی، سجاد، اور ندی لیتانی کے کنارے قاقعیات الجسر سمیت مختلف علاقوں پر بمباری کی۔
اس کے علاوہ، اسرائیلی گولہ باری نے ناقورہ، عیتا الشعب، الخیام اور کفرکیلا کے اطراف کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ الطیبہ پر بھی شیلنگ کی گئی۔
المیادین کے نمائندے نے مزید رپورٹ کیا کہ اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے گاؤں حولہ، مرجعیون میں ایک رہائشی مکان پر ساؤنڈ بم بھی گرایا۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں بشمول صور، بنت جبیل، صیدا، اور جزین کے اوپر اسرائیلی جنگی طیارے نچلی پروازیں کرتے رہے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

