ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانمینگل کا لانگ مارچ سے قبل رکاوٹوں پر شدید ردعمل

مینگل کا لانگ مارچ سے قبل رکاوٹوں پر شدید ردعمل
م

احتجاجی مارچ مکمل کرنے کا عزم، حکومتی اقدامات کی مذمت

کوئٹہ:
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ حکومتی رکاوٹیں اور پابندیاں بلوچ عوام کو ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے نہیں روک سکتیں۔

وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کے آغاز سے قبل سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مینگل نے واضح کیا کہ ریاستی ہتھکنڈے عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ انہوں نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خضدار سے کوئٹہ جانے والے مرکزی راستوں پر کنٹینرز لگا کر عوامی نقل و حرکت کو محدود کیا جا رہا ہے، حالانکہ بی این پی نے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ مارچ پُرامن ہوگا۔

مینگل کا حکومتی جبر کے خلاف مؤقف

سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچ عوام اپنی خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر خاموش نہیں رہیں گے اور ہر ممکن طریقے سے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب، صوبائی حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت سیاسی و سماجی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے کالے شیشے والی گاڑیوں کے استعمال اور عوامی سطح پر اسلحے کی نمائش پر بھی قدغن لگا دی ہے۔

مواصلاتی نظام کی بندش اور حکومتی سختیاں

انتظامیہ نے لانگ مارچ کے پیش نظر بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے، جبکہ کوئٹہ، خضدار، نوشکی اور دیگر اضلاع میں موبائل سگنلز بھی منقطع کر دیے گئے ہیں، جس سے عوامی رابطوں میں شدید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔

احتجاج کے تسلسل کا اعلان

بی این پی-ایم کے سربراہ سردار اختر مینگل نے 26 مارچ کو سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ وہ 28 مارچ کو وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا:
"یہ احتجاج ہماری بیٹیوں کی گرفتاری اور ہماری ماؤں اور بہنوں کی بے حرمتی کے خلاف ہے۔”

انہوں نے بلوچ عوام، بشمول مرد، خواتین، بزرگ اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس مارچ میں بھرپور شرکت کریں۔
"یہ محض گرفتاریوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری قومی غیرت، عزت اور بقا کا سوال ہے۔ ہم اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک ہماری خواتین محفوظ نہیں ہو جاتیں۔”

"ہماری جدوجہد مکمل طور پر پُرامن ہے، اور ہم ظلم و جبر کے خلاف کھڑے ہیں۔ جب تک ہمیں انصاف نہیں ملتا، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”

"یہ صرف ایک سفر نہیں بلکہ ضمیر کی بیداری کی تحریک ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ ہم متحد ہو کر ایک مضبوط آواز میں بولیں۔”

احتجاجی مظاہروں میں جھڑپیں اور گرفتاریوں کی لہر

اس سے قبل، 22 مارچ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین، بشمول تنظیم کی مرکزی منتظم مہرنگ بلوچ، کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ یہ تصادم بلوچستان یونیورسٹی کے قریب سریاب روڈ پر پیش آیا، جہاں مشتعل مظاہرین نے پولیس کی بکتر بند گاڑیوں پر پتھراؤ کیا، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے جواباً آنسو گیس، واٹر کینن اور ہوائی فائرنگ کا استعمال کیا۔

حکومتی پالیسیوں پر تنقید

بلوچ قیادت نے حکومتی اقدامات کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان ہتھکنڈوں کے باوجود، احتجاج جاری رہے گا اور اپنے مطالبات کے حق میں بلوچ عوام متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھیں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین