اسلام آباد – وفاقی حکومت نے بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو باضابطہ طور پر فی یونٹ 1.71 روپے کمی کی درخواست جمع کرادی ہے۔
تجویز کے مطابق، یہ کمی ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی میں اضافے کے ذریعے ممکن بنائی جائے گی۔ یہ مجوزہ کٹوتی اپریل سے جون 2025 کے عرصے کے لیے تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، بشمول کے-الیکٹرک، پر لاگو ہوگی، تاہم لائف لائن گھریلو صارفین اس ایڈجسٹمنٹ سے مستثنیٰ ہوں گے۔
نیپرا نے اس حکومتی درخواست پر سماعت 4 اپریل کو مقرر کر رکھی ہے۔ اگر منظوری دی جاتی ہے، تو وفاقی حکومت مذکورہ مدت کے دوران بجلی کے صارفین کو فی یونٹ 1.71 روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔
آئی ایم ایف کی منظوری اور سبسڈی کا پس منظر
جیو نیوز کے مطابق، حکومت اس سہ ماہی سبسڈی کے ذریعے بجلی کی طلب میں اضافے کا ارادہ رکھتی ہے۔ نیپرا نے مالی سال 2024-25 کے لیے بجلی کا قومی اوسط ریٹ 35.50 روپے فی کلو واٹ آور مقرر کیا تھا، جبکہ حکومت نے اکتوبر 2024 سے اس نرخ کو کم کر کے 32.99 روپے فی کلو واٹ آور رکھا اور اس فرق کو ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کے ذریعے پورا کیا گیا۔
دوسری جانب، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی فی یونٹ 1 روپے کی کمی کی منظوری دی ہے، جس سے تمام صارفین کو ریلیف ملے گا۔ آئی ایم ایف حکام کے مطابق، یہ سبسڈی گیس پر مبنی کیپٹو پاور پلانٹس پر عائد لیوی کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی سے فراہم کی جائے گی۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری 37 ماہ کے بیل آؤٹ پروگرام کے پہلے جائزے کے دوران عملے کی سطح پر معاہدہ طے پایا۔
مزید 8 روپے کمی کی منصوبہ بندی
ذرائع کے مطابق، حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں مزید 8 روپے فی یونٹ کمی کا فیصلہ کیا ہے، جو آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ممکنہ طور پر یہ اعلان عیدالفطر سے قبل قوم کے لیے ایک تحفے کے طور پر کریں گے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مالیاتی مذاکرات
دریں اثناء، آئی ایم ایف کے مواصلاتی شعبے کی ڈائریکٹر جولی کوزاک نے تصدیق کی ہے کہ فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو "ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی” (RSF) کے تحت 1.3 ارب ڈالر جاری کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق، یہ 28 ماہ کا نیا معاہدہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے اقدامات میں مدد فراہم کرے گا۔
آئی ایم ایف کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا بریفنگ کے دوران، انہوں نے بتایا کہ 25 ستمبر 2024 کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے "ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی” (EFF) کا 37 ماہ کا معاہدہ منظور کیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان کو عملے کی سطح پر 25 مارچ 2025 کو پہلا جائزہ مکمل ہونے کے بعد 1 ارب ڈالر تک رسائی ملے گی۔
دیگر مالیاتی امور اور آئی ایم ایف کی شرائط
آئی ایم ایف نے ایک کھرب روپے کے "ایکسپورٹ فنانس اسکیم” (EFS) میں توسیع کے لیے پاکستان کی درخواست مسترد کر دی اور مقامی آٹو انڈسٹری کے لیے دی گئی رعایتوں کو بتدریج ختم کرنے پر زور دیا۔ تاہم، فنڈ نے پاکستان کو 1.25 کھرب روپے (4.5 ارب ڈالر) مقامی بینکوں سے قرض لینے کی اجازت دی تاکہ بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کا حل نکالا جا سکے، بشرطیکہ یہ عوامی قرضوں میں اضافے کا سبب نہ بنے۔
حکومت نے تجارتی محصولات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، اور اضافی کسٹمز ڈیوٹیز کو جولائی سے مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کا محصولات کا ہدف اور ممکنہ خسارہ
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مارچ 2025 کے لیے اپنا مقررہ محصولات کا ہدف 110 ارب روپے سے زائد کے خسارے کے ساتھ حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایف بی آر نے 28 مارچ تک 1,088 ارب روپے جمع کیے، جبکہ مقررہ ہدف 1,220 ارب روپے تھا۔ تاہم، ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ کچھ دفاتر اور بینک شاخیں ہفتہ کو بھی کھلی رہیں گی، جس کے نتیجے میں مزید محصولات جمع ہونے کا امکان ہے۔
مجموعی طور پر، ایف بی آر کو اپریل-جون 2025 کے عرصے میں 3,903 ارب روپے اکٹھے کرنے ہوں گے تاکہ نظرثانی شدہ سالانہ ہدف حاصل کیا جا سکے۔ آئی ایم ایف اور ایف بی آر حکام کے درمیان محصولات کے اہداف پر نظرثانی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اور آئندہ بجٹ کے حوالے سے فنی ٹیم 4 اپریل کو اسلام آباد پہنچے گی تاکہ مالیاتی منصوبے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

