آسکر یافتہ فلسطینی ہدایتکار پر مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا حملہ، فوج نے حراست میں لے لیا
مقبوضہ مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں نے آسکر جیتنے والی دستاویزی فلم "No Other Land” کے فلسطینی شریک ہدایتکار پر حملہ کیا، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے انہیں حراست میں لے لیا۔یہودیوں کے ایک امن پسند گروپ Center for Jewish Nonviolence کے مطابق، آبادکاروں کے ایک گروہ نے پیر کی شام مسافر یطا کے علاقے میں واقع فلسطینی گاؤں سوسیا پر حملہ کیا۔ اس حملے کا نشانہ بننے والوں میں ہدایتکار حمدان بلال بھی شامل تھے۔سر پر شدید چوٹ لگنے کے باعث بلال زخمی ہو گئے۔ گروپ کے مطابق، انہیں ایک اور فلسطینی شخص کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا اور ان کی موجودہ حالت اور مقام نامعلوم ہے۔فلم کے ایک اور شریک ہدایتکار باسل ادرا، جو واقعے کے گواہ ہیں، نے بتایا کہ تقریباً دو درجن آبادکاروں نے حملہ کیا، جن میں سے کچھ نقاب پوش تھے، کچھ مسلح تھے، اور کچھ فوجی وردیوں میں ملبوس تھے۔ موقع پر پہنچنے والے اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں پر بندوقیں تان لیں، جبکہ آبادکار پتھراؤ کرتے رہے۔
آسکر جیتنے والی فلسطینی فلم کے شریک ہدایتکار پر اسرائیلی آبادکاروں کا وحشیانہ حملہ
بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ فلسطینی دستاویزی فلم "No Other Land”، جو 2024 کے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سے کامیابیوں کا سلسلہ شروع کر چکی تھی، اس سال آسکر ایوارڈ جیتنے والی بہترین دستاویزی فلم قرار پائی۔ فلم مقبوضہ مغربی کنارے کے مسافر یطا کے فلسطینی باشندوں کی جدوجہد کو اجاگر کرتی ہے، جو اسرائیلی فوج کی جانب سے اپنے گاؤں مسمار کیے جانے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
"یہ ان کی انتقامی کارروائی لگتی ہے”
فلم کے شریک ہدایتکار باسل ادرا نے کہا، "ہم آسکر سے واپس آئے اور تب سے روزانہ ہم پر حملے ہو رہے ہیں۔ یہ فلم بنانے کی پاداش میں ہم سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ یہ ایک سزا محسوس ہوتی ہے۔”ادرا کے مطابق، پیر کی شام افطار کے فوراً بعد اسرائیلی آبادکاروں نے گاؤں پر حملہ کیا۔ ایک آبادکار، جو پہلے بھی گاؤں پر حملے کر چکا تھا، اسرائیلی فوج کے ہمراہ حمدان بلال کے گھر پہنچا، جہاں فوج نے ہوائی فائرنگ کی۔
"میں مر رہا ہوں” – حمدان بلال کی آخری چیخ
ادرا نے بتایا کہ بلال کی اہلیہ نے گھر کے باہر اپنے شوہر کی چیخیں سنیں، جب انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ بلال چیختے ہوئے کہہ رہے تھے، "میں مر رہا ہوں!اس کے بعد فوجیوں نے بلال کو ہتھکڑیاں لگا کر اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر فوجی گاڑی میں ڈال دیا، جبکہ ان کا خون ان کے گھر کے دروازے کے باہر زمین پر بکھرا ہوا تھا۔
"عبادت گزاروں کو ایمبولینس سے اغوا کیا گیا”
فلم کے اسرائیلی شریک ہدایتکار یووال ابراہام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا، "آبادکاروں کے ایک گروہ نے حمدان بلال پر وحشیانہ حملہ کیا، انہیں سر اور پیٹ پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ خون میں لت پت ہو گئے۔ بلال نے ایمبولینس کو بلایا، لیکن فوج نے ایمبولینس پر دھاوا بول کر انہیں زبردستی اٹھا لیا۔ تب سے ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔”
"No Other Land” کے ہدایتکاروں اور کارکنوں پر اسرائیلی آبادکاروں کا ایک اور حملہ
عینی شاہد اور کارکن جوش کیملمین کے مطابق، 10 سے 20 کے قریب نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے پتھروں اور ڈنڈوں سے لیس ہو کر Center for Jewish Nonviolence کے کارکنوں پر حملہ کیا۔ آبادکاروں نے گاڑیوں کی کھڑکیاں توڑ دیں اور ٹائروں کو کاٹ دیا تاکہ کارکن موقع سے فرار ہونے پر مجبور ہو جائیں۔کارکنوں کے فراہم کردہ ویڈیو شواہد میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نقاب پوش آبادکار رات کے وقت ایک کھلے میدان میں دو کارکنوں کو دھکیلتے ہوئے اور ان پر مکے برساتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ کارکن جلدی سے اپنی گاڑی کی طرف بھاگتے ہیں، جبکہ پس منظر میں پتھر ان کی گاڑی سے ٹکرا کر گرنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
فلم کے ہدایتکاروں اور عملے پر مسلسل حملے
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ "No Other Land” کے ہدایتکاروں اور عملے کو اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو۔گزشتہ فروری میں بھی، شریک ہدایتکار باسل ادرا کو اسرائیلی نقاب پوش آبادکاروں نے گھیر کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

