آدھے سے زیادہ اسرائیلی فوجی غزہ جنگ کے بعد ذہنی صدمے (PTSD) کا شکار
اسرائیلی وزارت دفاع کے بحالی ڈپارٹمنٹ کے مطابق، اکتوبر 2023 میں غزہ پر جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 16,000 فوجیوں کا علاج کیا جا چکا ہے، جن میں ذہنی دباؤ (PTSD) کے شکار فوجی بھی شامل ہیں۔وزارت دفاع کے بیان کے مطابق، جنگ کے دوران بحالی مراکز میں داخل ہونے والے نصف فوجیوں کو PTSD لاحق ہے، جن میں 2,900 ایسے فوجی شامل ہیں جو جسمانی زخموں اور ذہنی دباؤ دونوں سے متاثر ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 6 فیصد فوجیوں کو درمیانے درجے کی چوٹیں لگیں، جبکہ 4 فیصد شدید زخمی ہوئے۔ 72 فوجیوں کے اعضا کاٹنے پڑے، اور مجموعی طور پر ان 16,000 فوجیوں میں سے 66 فیصد ریزرو فوجی تھے۔
2023 سے 2030 تک PTSD میں اضافہ متوقع
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، وزارت دفاع کا بحالی ڈپارٹمنٹ تقریباً 78,000 زخمی سابق فوجیوں کا علاج کر رہا ہے، جن میں پچھلی جنگوں میں زخمی ہونے والے فوجی بھی شامل ہیں۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2030 تک یہ تعداد 100,000 تک پہنچ جائے گی، اور ان میں کم از کم نصف فوجی PTSD کا شکار ہوں گے۔
اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتیں اور زخمیوں کی تعداد
تازہ ترین اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق، جو ہفتے کے روز اپڈیٹ کیے گئے، غزہ پر حملے کے بعد سے اب تک 846 اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ 5,737 زخمی ہو چکے ہیں۔

