روسی وزیر خزانہ انتون سیلوانوف کا کہنا ہے کہ برکس ممالک مالیاتی شعبے میں مختلف اختراعات پر کام کر رہے ہیں، جن میں ایک ’’ڈیجیٹل‘‘ سرحد پار ادائیگی کا نظام بھی شامل ہے تاکہ اقتصادی بلاک کے اندر مالیاتی خدمات سرانجام دی جا سکیں۔
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، سیلوانوف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا:
"ہم برکس کے پلیٹ فارم پر اپنی مختلف مالیاتی اختراعات پر غور کر رہے ہیں، جن میں سرحد پار ادائیگی کا نظام بھی شامل ہے جو دوطرفہ مالی لین دین اور قومی کرنسیوں پر مبنی ہو سکتا ہے، ساتھ ہی اس میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل مالیاتی اثاثوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔”
برکس کے موجودہ ارکان میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایران، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، انڈونیشیا اور ایتھوپیا شامل ہیں۔
کچھ ترقی پذیر ممالک، جن میں الجزائر، بیلاروس، بولیویا، کیوبا، انڈونیشیا، قازقستان، ملائیشیا، نائیجیریا، تھائی لینڈ، ترکی، یوگنڈا، ازبکستان اور ویتنام شامل ہیں، اس اقتصادی اتحاد میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔
سیلوانوف کا مزید کہنا تھا کہ "مالیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہمارے ممالک کی تجارت اور معیشت کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔”
امریکی دباؤ اور برکس کی حکمت عملی
امریکا کی جانب سے برکس ممالک کو امریکی ڈالر کے متبادل کی کوششوں سے باز رکھنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس کے کسی بھی ایسے اقدام کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے جو "طاقتور امریکی ڈالر” کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
ٹرمپ نے کہا:
"ہم ان بظاہر معاندانہ ممالک سے ایک واضح یقین دہانی چاہتے ہیں کہ وہ نہ تو کوئی نیا برکس کرنسی نظام تشکیل دیں گے اور نہ ہی کسی دوسری کرنسی کی حمایت کریں گے جو امریکی ڈالر کی جگہ لے سکے— بصورت دیگر، انہیں 100 فیصد محصولات (ٹیرف) کا سامنا کرنا ہوگا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "بین الاقوامی تجارت یا کسی اور جگہ برکس کے ذریعے امریکی ڈالر کی جگہ لینے کا کوئی امکان نہیں ہے۔”
امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوششیں
اگرچہ برکس کے پاس کوئی مشترکہ کرنسی نہیں ہے، لیکن امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے بحث گزشتہ چند سالوں میں زور پکڑ چکی ہے، خاص طور پر جب مغربی ممالک نے روس پر یوکرین جنگ کے تناظر میں پابندیاں عائد کیں۔
واشنگٹن کی جانب سے امریکی ڈالر کو بطور معاشی ہتھیار استعمال کرنے کے اثرات سے بچنے کے لیے، برکس نے بین الاقوامی تجارتی معاملات کے لیے ایک نئی کرنسی متعارف کرانے کا منصوبہ تیار کیا ہے، تاکہ امریکی ڈالر کے دہائیوں پر محیط عالمی غلبے کا خاتمہ کیا جا سکے۔
نیو ڈویلپمنٹ بینک اور برکس کا معاشی استحکام
برکس ممالک نے نیو ڈویلپمنٹ بینک (NDB) قائم کیا ہے، جس کی صدارت برازیل کی سابق صدر ڈلما روسیف کو حال ہی میں 2030 تک کے لیے دوبارہ سونپی گئی ہے۔
یہ بینک برکس کے اندر تعاون کو مستحکم کرنے اور عالمی ترقی کے لیے کثیرالجہتی اور علاقائی مالیاتی اداروں کی کوششوں میں معاونت فراہم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کا مقصد اجتماعی عزم کے تحت مضبوط، پائیدار اور متوازن ترقی کے ہدف کو حاصل کرنا ہے۔
بینک کے بورڈ آف گورنرز میں سات ممالک کے نمائندے شامل ہیں، جن میں بنگلہ دیش، برازیل، مصر، بھارت، چین، متحدہ عرب امارات (UAE)، روس اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

