ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومنقطہ نظربلوچ شورش کا حل: کیا سنکیانگ ماڈل مشعلِ راہ بن سکتا ہے؟

بلوچ شورش کا حل: کیا سنکیانگ ماڈل مشعلِ راہ بن سکتا ہے؟
ب

بلوچستان، جو پاکستان کا سب سے بڑا مگر سب سے کم ترقی یافتہ صوبہ ہے، طویل عرصے سے شورش، سماجی و اقتصادی محرومی اور سیاسی علیحدگی کا شکار ہے۔ جب کہ ملک کے دیگر حصے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے ترقیاتی منصوبوں کی بدولت آگے بڑھ رہے ہیں، بلوچستان اب بھی غربت، بدامنی اور پسماندگی کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔

دوسری طرف، چین کے سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے کی کہانی بالکل مختلف ہے۔ کبھی یہ علاقہ شورش، نسلی تنازعات اور مذہبی انتہا پسندی کا مرکز تھا، لیکن گزشتہ دہائی میں اس نے غیر معمولی تبدیلی دیکھی ہے۔ ایک علیحدگی پسند خطے سے نکل کر سنکیانگ آج ایک پرامن اور معاشی طور پر مربوط علاقہ بن چکا ہے۔ چین کے اس ماڈل سے پاکستان قیمتی اسباق سیکھ سکتا ہے جو بلوچستان میں دیرپا امن اور ترقی کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

سنکیانگ اور بلوچستان، مماثلتیں اور سبق

2013 میں، سنکیانگ اور بلوچستان میں کئی حیران کن مماثلتیں موجود تھیں۔ دونوں علاقے وسیع و عریض اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، لیکن یہاں کے مقامی باشندے قومی دھارے سے کٹے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ دونوں خطے غربت، کمزور انسانی ترقی کے اشاریوں اور علیحدگی پسندی کی خطرناک لہر کا سامنا کر رہے تھے۔

سنکیانگ، بالخصوص اس کے دارالحکومت ارومچی میں، اس وقت صورتحال نہایت خراب تھی۔ سڑکوں پر پرانے ماڈل کی گاڑیاں چل رہی تھیں، تجارتی سرگرمیاں محدود تھیں، اور غربت کا ہر جگہ مشاہدہ کیا جا سکتا تھا۔ علاقہ دہشت گردی اور مذہبی شدت پسندی کی زد میں تھا، خاص طور پر ویغور برادری کے چند انتہا پسند عناصر کی طرف سے۔ اس صورتحال کے باعث امن و امان کی بگڑتی ہوئی حالت، سماجی تناؤ اور بے گناہ جانوں کے ضیاع کے مسلسل واقعات پیش آ رہے تھے۔

چین کی حکمتِ عملی، ترقی اور استحکام کا امتزاج

چین نے اس شورش کو صرف عسکری طاقت سے دبانے کے بجائے ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کی۔ حکومت نے سنکیانگ کو انتہا پسندی سے ہٹا کر ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لیے ایک وسیع البنیاد پروگرام متعارف کرایا، جسے "مستقل، انسانی اور پائیدار حل” قرار دیا گیا۔

اس منصوبے کے تحت سنکیانگ میں سینکڑوں پیشہ ورانہ تربیتی مراکز قائم کیے گئے، جہاں لاکھوں نوجوانوں اور متوسط عمر کے افراد کو جدید مہارتوں کی تربیت دی گئی۔ الیکٹرانکس، ٹیکسٹائل، لکڑی کا کام، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، حتیٰ کہ موسیقی اور رقص جیسے ثقافتی فنون بھی سکھائے گئے، تاکہ انتہا پسندی کی سوچ کے خلاف ذہن سازی کی جا سکے اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع دیے جا سکیں۔

2014 سے 2019 کے دوران، تقریباً 12 لاکھ افراد ان تربیتی مراکز میں داخل ہوئے۔ اسی دوران حکومت نے انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، توانائی اور شہری ترقی میں بے مثال سرمایہ کاری کی۔ جدید مہارتوں کے حصول کے بعد ہزاروں سنکیانگ کے باشندوں نے روزگار کے نئے مواقع حاصل کیے، جس کے نتیجے میں ان کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئی۔ ان کے بچے بہتر تعلیمی اداروں میں داخل ہوئے، روایتی دستکاریوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی ملی، اور رفتہ رفتہ علیحدگی پسندی کی جگہ قومی یکجہتی نے لے لی۔

بلوچستان کا موجودہ منظرنامہ

دوسری جانب بلوچستان کی اقتصادی صورتحال زیادہ تر جمود کا شکار رہی۔ 2013 میں بلوچستان کا جی ڈی پی تقریباً 9 ارب ڈالر تھا، جو پاکستان کی مجموعی معیشت کا محض 3.7 فیصد بنتا تھا۔ 2023 تک یہ بڑھ کر تقریباً 12 سے 13 ارب ڈالر تک پہنچا، مگر اب بھی قومی معیشت میں اس کا حصہ چار فیصد سے کم ہے۔ صوبے میں غربت کی شرح 40 فیصد سے زائد ہے، نوجوانوں میں بے روزگاری کا تخمینہ 35 فیصد سے زیادہ ہے، اور شرح خواندگی تقریباً 45 فیصد کے آس پاس ہے، جو ملک میں سب سے کم ہے۔

قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود بلوچستان کے عوام کو اس دولت سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔ ریکوڈک، سینڈک اور گوادر بندرگاہ جیسے بڑے منصوبے بھی مقامی باشندوں کی معاشی حالت بدلنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان منصوبوں کی منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں مقامی آبادی کو شامل نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے وہ خود کو اپنے ہی وسائل سے محروم محسوس کرتے ہیں۔ ریاست کی جانب سے بلوچ عوام کو بااختیار بنانے کے بجائے عسکری حکمت عملی اپنانے کی پالیسی نے عوامی بے اعتمادی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

بلوچستان کے لیے راستہ – ترقی یا تصادم؟

سنکیانگ کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تعلیم، ہنر مندی اور جامع اقتصادی پالیسی کے ذریعے انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ چین نے مسلح جدوجہد میں ملوث عناصر کو پیشہ ورانہ تربیت اور معاشی مواقع فراہم کرکے قومی دھارے میں شامل کیا۔ پاکستان بھی اپنی جمہوری اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے ان حکمتِ عملیوں کو اپنانے پر غور کر سکتا ہے۔

بلوچستان میں جدید صنعتی و تکنیکی تربیت کے مراکز کے قیام سے نوجوانوں کو اقتصادی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ گوادر، تربت، کوئٹہ اور دیگر اہم شہروں میں تعلیمی اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ بلوچستان کے عوام ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ صحت، خوراک اور معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے، تاکہ وہ محرومی کے احساس سے باہر نکل سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، ترقیاتی منصوبوں میں بلوچ قیادت، کاروباری طبقے اور نوجوانوں کو فعال کردار دینا ہوگا۔ انہیں محض روزگار فراہم کرنے کے بجائے، پالیسی سازی اور منصوبوں کے انتظام میں حقیقی اختیارات دینا ہوں گے۔

بلوچستان کے عوام محنتی، باشعور اور باوقار ہیں۔ ان کی ثقافت، روایات اور تاریخی ورثہ پاکستان کے لیے ایک اثاثہ ہیں، نہ کہ بوجھ۔ مگر کوئی بھی کمیونٹی ترقی کے مواقع کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتی۔ انتہا پسندی وہاں جنم لیتی ہے جہاں امید ختم ہو چکی ہو۔ اگر ترقی کو وژن، ہمدردی اور شمولیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے، تو یہ شورش کے خلاف سب سے مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ریاست کے پاس دو راستے ہیں— محض طاقت کے استعمال پر انحصار جاری رکھے یا ایک دانشمندانہ، دیرپا اور ترقی پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کرے جو بلوچستان کے عوام کو بااختیار بنائے اور قومی وحدت کو مضبوط کرے۔ سنکیانگ ماڈل، اپنی تمام پیچیدگیوں کے باوجود، ایک ایسا نقشۂ راہ پیش کرتا ہے جہاں ترقی، مہارتوں کی تربیت اور شمولیتی طرزِ حکمرانی مایوسی کو وقار میں بدل سکتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین