تحریر: نبیلہ رمضان
فرانسیسی قبضے کے دوران مقامی عرب اور بربر مسلمانوں کو جھکنے یا مرنے پر مجبور کرنے کے لیے بچوں کے ابتدائی خاکے استعمال کیے گئے۔ ان دیہاتوں میں، جو تباہی کے دہانے پر تھے، پوسٹر چسپاں کیے گئے جن میں ایک اسکول اور فرانس کا سہ رنگی جھنڈا ایک بیوہ ماں اور بچے، ایک خون آلود لاش اور ایک جلتے ہوئے گھر کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ یہ نفسیاتی حربہ واضح تھا: "فرانس کے امن اور تحفظ کو قبول کریں یا تباہی کا سامنا کریں۔”
اگر آج یہ وحشیانہ منطق جانی پہچانی لگتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل فلسطینی عوام کے قتل عام کو "جائز” ثابت کرنے کے لیے یہی طریقہ کار اپنا رہا ہے۔ گزشتہ 17 ماہ کے دوران 50,000 سے زائد فلسطینی، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، شہید کیے جا چکے ہیں جبکہ دسیوں ہزار معذور ہو چکے ہیں۔ تمام شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل نام نہاد "خود دفاع” کے پردے میں نسلی تطہیر (ethnic cleansing) کر رہا ہے۔
اس بار، غزہ اور مغربی کنارے کو مسلسل جنگ کے میدان میں بدلنے کا جواز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے زیر قیادت عسکریت پسندوں کے ایک حملے کو بنایا گیا، جس میں 1,200 اسرائیلی مارے گئے۔ مرنے والوں میں عام شہری، فوجی، پولیس اہلکار اور شِن بیت (Shin Bet) کے ایجنٹس شامل تھے۔ اسی روز 1,609 فلسطینی حملہ آور، جو اسرائیلی مرنے والوں سے 409 زیادہ تھے، موقع پر ہی قتل کر دیے گئے۔ ان میں سے کئی اسرائیلی فوج کی جدید ٹیکنالوجی کی زد میں آکر ہلاک ہوئے، جو خود اسرائیلی شہریوں کی موت کی ذمہ دار بنی۔
بیری (Be’eri) نامی بستی میں ہونے والے حملے میں ہلاکتیں ہوئیں، مگر اسرائیلی حکام کی جانب سے وہاں نوعمر لڑکیوں کی عصمت دری اور حاملہ خواتین و بچوں کے قتل کے دعوے من گھڑت ثابت ہوئے۔ اس کے باوجود اسرائیلی سیاست دان اور ان کے حامی 7 اکتوبر کے واقعے کو جواز بنا کر غزہ اور مغربی کنارے میں اپنے حملوں کو "انتقامی کارروائی” قرار دے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو بھی تباہ کن بمباری اور محاصرے سے جوڑا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے اشاروں اور اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹ کے باوجود بربریت کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ جنگی عدم توازن 1948 سے اسرائیل-فلسطین تنازع کی پہچان رہا ہے، جب مغربی طاقتوں کی مدد سے اسرائیل کا قیام عمل میں آیا اور اسے زمینوں پر قبضے اور ظلم و ستم کے لیے جدید ہتھیار فراہم کیے گئے۔ اس وقت بھی یہی منطق تھی کہ اسرائیلی بالادستی کو تسلیم کرو، زمین سے دستبردار ہو جاؤ، ورنہ اجتماعی سزا کے لیے تیار رہو۔
الجزائر اور فلسطین کی مماثلت
جس طرح 1830 میں الجزائر پر فرانس کے قبضے کے بعد مقامی مسلمانوں کو غلام بنانے کی کوشش کی گئی، اسی طرح اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کر رہا ہے۔ فرانس کے پہلے گورنر جنرل، مارشل تھامس رابرٹ بُژو (Thomas-Robert Bugeaud) نے پیرس پارلیمنٹ میں کہا تھا:
"جہاں کہیں تازہ پانی اور زرخیز زمین ہے، وہاں نوآبادیات (colons) بساؤ، یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ زمین کس کی ہے۔”
فرانس نے عرب اور بربر مسلمانوں کو کمتر سمجھا، ان پر مظالم ڈھائے، انہیں بغیر مقدمہ جیل میں ڈالا اور انہیں اجتماعی قتل کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی۔ فرانسیسی فوج نے دنیا کے پہلے گیس چیمبرز ایجاد کیے، جن میں غاروں کو زہریلی گیس سے بھر کر مقامی آبادی کا قتل عام کیا جاتا تھا۔
جب مقامی آبادی نے اس وحشیانہ تسلط کے خلاف مزاحمت کی تو فرانسیسی قابضین نے انہیں "دہشت گرد” قرار دے کر قریہ قریہ تباہی مچائی۔ اسی طرح، فلسطینیوں کو بھی "دہشت گرد” یا "انسانی ڈھال” قرار دے کر ان کے شہروں کو ملبے کا ڈھیر بنایا جا رہا ہے۔
یہی تاریخ فلسطین میں دہرائی جا رہی ہے، جہاں اسرائیل کے وزراء فلسطینیوں کو "انسانی جانور” (human animals) کہہ کر مساجد، اسپتال، اسکول اور رہائشی عمارتوں پر بمباری کا جواز پیش کر رہے ہیں۔
نوآبادیاتی قبضے کا اختتام
فرانس نے 1954 میں الجزائر کے خلاف جنگ چھیڑی، جس میں جدید فوجی سازوسامان اور نیپام بموں (Napalm) سے لیس طیارے استعمال کیے۔ مگر فرانسیسی قبضے کے خلاف عوامی مزاحمت میں شدت آتی گئی، بالآخر 1962 میں الجزائر آزاد ہوا۔
فرانس جان چکا تھا کہ وہ مقامی آبادی کو کبھی اپنا حصہ نہیں بنا سکتا اور نہ ہی ہمیشہ ظلم و جبر کے ذریعے قبضہ برقرار رکھ سکتا ہے۔ جب فرانسیسی نوآبادیات کے باشندوں (colons) کو لگا کہ وہ وہاں محفوظ نہیں رہ سکتے تو وہ لاکھوں کی تعداد میں الجزائر سے فرار ہو گئے، یوں 132 سالہ قبضے کا خاتمہ ہو گیا۔
کیا اسرائیل کا بھی یہی انجام ہوگا؟
اگر اسرائیل واقعی دو ریاستی حل کو دفن کر چکا ہے اور فلسطینیوں کو "ختم” کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ نوآبادیاتی طاقتیں ہمیشہ ظلم اور فوجی طاقت کے ذریعے حکمرانی برقرار نہیں رکھ سکتیں۔ الجزائر کی طرح، فلسطین میں بھی اسرائیل کو بالآخر بین الاقوامی دباؤ اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کا نتیجہ اسی طرح کا ہو سکتا ہے جیسا کہ فرانس کے ساتھ ہوا تھا۔

