ہفتہ, فروری 14, 2026
ہوممضامین"ہم اسرائیلی تشدد کی آخری ہچکیاں دیکھ رہے ہیں": ایوی شلائیم سے...

"ہم اسرائیلی تشدد کی آخری ہچکیاں دیکھ رہے ہیں”: ایوی شلائیم سے مکالمہ
&

انٹرویو

ایوی شلائیم سے مکالمہ:

"ہم اسرائیلی تشدد کی آخری ہچکیاں دیکھ رہے ہیں”

"صیہونیت خود کو تباہ کرنے کے عمل میں ہے”

تحریر: سباسچن شہادی
21 مارچ 2025

پروفیسر ایوی شلائیم

چند اسرائیلی مورخین نے ریاست کے قومی اساطیر کو اس شدت سے پرکھا ہے جتنا کہ ایوی شلائیم نے۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ایمریٹس اور جدید فلسطینی و اسرائیلی تاریخ کے نامور ترین مورخین میں شمار ہوتے ہیں۔

1945 میں عراق کے ایک عرب-یہودی خاندان میں پیدا ہونے والے شلائیم بعد ازاں اسرائیل منتقل ہو گئے۔ ان کا علمی سفر ایک گہری، باریک بین اور ذاتی نوعیت کی تنقیدی روش کا حامل رہا، جس میں ان کے 1960 کی دہائی کے وسط میں اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے کا تجربہ بھی نمایاں رہا۔

1980 کی دہائی میں ‘نیو ہسٹورینز’ (نئے مورخین) کی تحریک کے اہم رہنماؤں میں شمار کیے جانے والے شلائیم نے اسرائیل کے قیام سے متعلق متعدد روایتی صیہونی بیانیوں کو چیلنج کیا۔ 1948 کی عرب-اسرائیل جنگ اور نکبہ پر ان کا نمایاں تحقیقی کام، خصوصاً ان کی معرکتہ الآرا کتاب دی آئرن وال: اسرائیل اینڈ دی عرب ورلڈ، اسرائیل کے جنگ سے قبل اور بعد کے اقدامات پر گہری تنقید پیش کرتی ہے۔

پروفیسر شلائیم نے نووارا میڈیا سے اپنے آکسفورڈ میں واقع گھر میں گفتگو کی، جس کا موضوع ان کی تازہ ترین کتاب غزہ میں نسل کشی: فلسطین پر اسرائیل کی طویل جنگ تھا۔ یہ کتاب ایک ایسے وقت میں شائع ہوئی ہے جب غزہ کے فلسطینی ایک تباہ کن بحران سے دوچار ہیں، اور اسرائیل کی جبری بے دخلی اور نسل کشی کی مہم کو مغربی حکومتوں کی فوجی و سفارتی حمایت حاصل ہے۔

شلائیم کے مطابق، یہ کتاب ان کے اس تاریخی اور گہرے اخلاقی احساس سے جنم لیتی ہے کہ "طاقت کے سامنے سچ بولنا اور فلسطینیوں کے ساتھ ان کی مشکل گھڑی میں کھڑا ہونا میرا اخلاقی فرض ہے”۔ وہ اپنی تحریر میں اسرائیل کے ان جنگی جرائم کو بے نقاب کرتے ہیں جنہیں عام کر دیا گیا ہے، بشمول نسل کشی، اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور ان کی بنیادی انسانی حیثیت پر مسلسل حملوں کو تاریخی شواہد کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ یہ کتاب اسرائیلی سیاسی و عسکری حکمت عملی کے پیچھے موجود نسل پرستانہ اور نوآبادیاتی سوچ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیتی ہے۔

یہ کتاب شلائیم کی 2023 میں شائع ہونے والی یادداشت تین دنیائیں: ایک عرب-یہودی کی یادداشتیں کا ایک بروقت تسلسل بھی ہے، جس میں وہ دوبارہ اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ آیا ‘نسل پرستی’، ‘فاشزم’ اور ‘نسل کشی’ جیسے اصطلاحات اسرائیلی ریاست پر لاگو ہوتی ہیں یا نہیں۔ قانونی و تاریخی شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے، اور اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیز کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے – جو ان کی نئی کتاب کا مقدمہ بھی لکھتی ہیں – شلائیم ایک واضح نتیجے پر پہنچتے ہیں: اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔

اینٹی-صیہونیت کی طرف میرا سفر

جب آپ آکسفورڈ آئے تو خود کو ‘اینٹی-صیہونی’ نہیں کہتے تھے۔ آپ کی سوچ میں تبدیلی کیسے آئی؟

یہ ایک طویل سفر تھا، مگر اصل تبدیلی میرے تحقیقی کام کے دوران آئی۔ میں اسرائیلی ریاستی آرکائیوز میں تحقیق کے دوران ‘ریڈیکلائز’ ہوا۔ میں اسرائیل میں اسکول کے دوران صیہونی بیانیے کے زیر اثر تھا، اور فوج میں خدمات انجام دینے کے دوران یہ سوچ مزید پختہ ہو گئی کہ اسرائیل ایک امن پسند ملک ہے جو دشمن عربوں میں گھرا ہوا ہے، اور ہمیں اپنی بقا کے لیے لڑنا ہے۔ میں اس بیانیے پر یقین رکھتا تھا، یہاں تک کہ میں نے بطور مورخ عرب-اسرائیل تنازعے میں دلچسپی لینا شروع کی۔

میں نے اسرائیلی آرکائیوز میں ایک سال تحقیق کی، جہاں مجھے اسرائیل کی جارحیت اور اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ جان بوجھ کر تصادم پیدا کرنے کی دستاویزی شہادتیں ملیں۔ ان شواہد سے واضح ہوا کہ اسرائیل کو امن میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

آپ نے اسرائیلی فوج چھوڑنے کے بعد بھی اسرائیلی شہریت ترک نہیں کی۔ کیا آپ نے کبھی اس پر غور کیا؟

بہت سنجیدگی سے۔ لندن میں اسرائیلی قونصل خانے کی ایک اہلکار نے مجھے مشورہ دیا کہ ایسا نہ کروں کیونکہ "حکام انتقامی کارروائی کرتے ہوئے مجھے اسرائیل واپس جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔” اگر میں نے اپنا پاسپورٹ ترک کر دیا ہوتا تو میں اسرائیلی آرکائیوز تک رسائی سے محروم ہو جاتا۔

اسرائیل کی نسل کشی

آپ نے پہلے اسرائیل کی کارروائیوں کو نسل کشی نہیں کہا۔ اب کیا بدلا؟

میں نے یہ اصطلاح استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی کیونکہ یہ ایک بڑا الزام ہے۔ لیکن حقائق غیر معمولی حد تک واضح ہیں۔ یہ دنیا کی پہلی نسل کشی ہے جو براہ راست نشر ہو رہی ہے۔ اسرائیلی حکام کھلے عام اس نسل کشی کا اعلان کر رہے ہیں۔

مثلاً، صدر آئزک ہرزوگ نے کہا کہ "غزہ میں کوئی معصوم نہیں”، جبکہ سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے فلسطینیوں کو "انسانی جانور” قرار دیا۔ سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسرائیل نے امداد کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرتے ہوئے غزہ میں قحط پیدا کر دیا۔ یہ اقوام متحدہ کی نسل کشی کنونشن کے مطابق واضح نسل کشی ہے۔

مغربی حکومتیں اس کو تسلیم کیوں نہیں کر رہیں؟

کیونکہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون سے بالاتر سمجھا جاتا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ اسرائیل کی نسل کشی کے شراکت دار ہیں۔

اسرائیل کے اندر بگاڑ اور مستقبل

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے اندرونی اختلافات اس کے زوال کی طرف لے جائیں گے؟

ہاں، صیہونیت خود کو تباہ کر رہی ہے۔ طاقتور ریاستیں عموماً زوال کے وقت زیادہ پرتشدد ہو جاتی ہیں، اور یہی ہم اسرائیل میں دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل کی یہ جنگ اس کی آخری بڑی پرتشدد کارروائی ہو سکتی ہے۔ جب یہ ختم ہو گی، تو اندرونی تنازعات شدت اختیار کریں گے، اور بین الاقوامی حمایت ختم ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی نوآبادیاتی منصوبہ کمزور ہو گا۔

کیا دو ریاستی حل ممکن ہے؟

نہیں، اسرائیل نے اس خیال کو مکمل طور پر دفن کر دیا ہے۔ اب صرف دو ہی راستے ہیں: یا تو مساوی حقوق پر مبنی ایک ریاست، یا جاری نسل کشی اور نسلی برتری پر مبنی نظام۔ میں نے مساوات کا انتخاب کیا ہے۔ یہی "دریا سے سمندر تک” کے نعرے کا اصل مطلب ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین