بوسٹن، 26 مارچ – امریکی امیگریشن حکام نے بوسٹن کے قریب واقع ٹفٹس یونیورسٹی کی ترک نژاد ڈاکٹریٹ کی طالبہ کا ویزا منسوخ کر کے اسے حراست میں لے لیا ہے۔ مذکورہ طالبہ نے اسرائیل کی غزہ جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔
رومیصہ اوزترک کی گرفتاری، جو منگل کی شب عمل میں آئی، کو ان کے حامی بوسٹن کے علاقے میں سرگرم کسی بھی طالبعلم کی پہلی معلوم امیگریشن گرفتاری قرار دے رہے ہیں، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت کی گئی۔ یہ انتظامیہ ان غیر ملکی نژاد طلبہ کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو قانونی طور پر امریکہ میں موجود ہیں اور فلسطین کے حق میں احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں۔
ان اقدامات کو آزادیٔ اظہار پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ بعض احتجاجات یہود مخالف ہیں اور امریکی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ماسک پہنے اور سادہ لباس میں ملبوس ایجنٹس نے 30 سالہ ترک شہری کو منگل کی شام سومیرویل، میساچوسٹس میں اس کے گھر کے قریب سے حراست میں لیا۔ اوزترک کے وکیل کے مطابق، وہ افطار کے لیے دوستوں سے ملنے جا رہی تھیں جب انہیں گرفتار کیا گیا۔
امریکی حکام کا مؤقف
امریکی محکمۂ داخلی سلامتی کی ترجمان، ٹریشیا میکلاگلن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ حکام نے اوزترک کو "حماس، جو کہ ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ہے اور امریکیوں کے قتل عام میں ملوث ہے، کی حمایت میں سرگرم” پایا۔
میکلاگلن نے مزید کہا، "ویزا ایک استحقاق ہے، حق نہیں۔” تاہم، انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اوزترک، جو فلبرائٹ اسکالر اور ٹفٹس یونیورسٹی میں بچوں کی تعلیم و نشوونما کے ڈاکٹریٹ پروگرام کی طالبہ ہیں، نے کون سی مخصوص سرگرمیاں انجام دی تھیں۔
قانونی کارروائی اور عدالتی حکم
اوزترک کی گرفتاری ایک سال بعد ہوئی جب انہوں نے ٹفٹس ڈیلی نامی طلبہ اخبار میں ایک رائے مضمون شائع کیا تھا، جس میں یونیورسٹی کی اسرائیل سے روابط رکھنے والی کمپنیوں سے سرمایہ نکالنے کی طلبہ کی اپیل پر عدم ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اوزترک کی وکیل، محسا خانبابائی نے کہا، "ملک بھر میں جو رجحان دیکھا جا رہا ہے، اس کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے آزادیٔ اظہار کے حق کو استعمال کرنے نے ان کی گرفتاری میں کردار ادا کیا ہے۔”
ان کی گرفتاری کے بعد، وکیل نے فوری طور پر ایک مقدمہ دائر کیا اور موقف اختیار کیا کہ اوزترک کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، امریکی ضلعی جج اندیرا تلوانی نے اسی رات امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کو حکم دیا کہ اوزترک کو میساچوسٹس سے باہر نہ لے جایا جائے جب تک کہ کم از کم 48 گھنٹے کا نوٹس نہ دیا جائے۔
تاہم، بدھ کی رات اوزترک کو لوزیانا منتقل کر دیا گیا، جو عدالت کے حکم کی خلاف ورزی تھی، وکیل نے کہا۔ خانبابائی نے اوزترک کے خلاف الزامات کو "بے بنیاد” قرار دیا اور کہا کہ عوام کو "یہ دیکھ کر خوفزدہ ہونا چاہیے کہ کس طرح DHS نے دن دہاڑے رومیصہ کو غائب کر دیا۔”
سیاسی و سماجی ردعمل
میساچوسٹس سے ڈیموکریٹ سینیٹر، الزبتھ وارن نے اوزترک کی گرفتاری کو "شہری آزادیوں کو دبانے کے لیے اختیار کیے گئے خطرناک طرزِ عمل کی ایک اور مثال” قرار دیا۔
اوزترک کی گرفتاری کے خلاف سومیرویل میں ایک بڑا مظاہرہ ہوا، جہاں مظاہرین نے "مزاحمت کرو”، "طلبہ کی آواز کا دفاع کرو”، اور "رومیصہ اوزترک کو رہا کرو!” جیسے نعرے درج بینرز اٹھا رکھے تھے۔
یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی طلبہ کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، جس میں امیگریشن گرفتاریوں میں اضافہ اور سرحدی داخلے پر سخت پابندیاں شامل ہیں۔
دیگر مقدمات
صدر ٹرمپ اور ان کے وزیر خارجہ، مارکو روبیو، نے خاص طور پر فلسطین کے حامی غیر ملکی مظاہرین کو ملک بدر کرنے کا وعدہ کیا ہے، اور ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حماس کے حامی ہیں، امریکی خارجہ پالیسی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، اور یہود مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
مظاہرین، بشمول کچھ یہودی گروہ، کہتے ہیں کہ حکومت غلط طور پر ان کی اسرائیل مخالف تنقید اور فلسطینی حقوق کی حمایت کو یہود دشمنی اور حماس کی حمایت سے جوڑ رہی ہے۔
ٹفٹس یونیورسٹی کے صدر، سنیل کمار، نے ایک بیان میں کہا کہ یونیورسٹی کو گرفتاری کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، اور انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ واقعہ "ہمارے بین الاقوامی طلبہ سمیت برادری کے کچھ افراد کے لیے پریشان کن” ہو سکتا ہے۔
واشنگٹن میں ترک سفارت خانے نے کہا کہ وہ امریکی محکمہ خارجہ، ICE اور دیگر حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ اوزترک کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری قونصلر خدمات اور قانونی مدد فراہم کی جا سکے۔
اوزترک کی گرفتاری سے تین ہفتے قبل، محمود خلیل، جو کولمبیا یونیورسٹی کے فارغ التحصیل اور قانونی طور پر امریکہ میں مقیم ہیں، کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اپنی حراست کو چیلنج کر رہے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ نے ان پر بغیر کسی ثبوت کے حماس کی حمایت کا الزام لگایا، جسے خلیل نے مسترد کیا ہے۔
وفاقی امیگریشن حکام ایک جنوبی کوریائی نژاد کولمبیا یونیورسٹی کے طالبعلم کو حراست میں لینا چاہتے ہیں، جو قانونی مستقل رہائشی ہیں اور فلسطین کے حامی احتجاج میں شامل رہے ہیں، تاہم عدالتوں نے اس اقدام کو فی الحال روک دیا ہے۔
اس کے علاوہ، براؤن یونیورسٹی، رہوڈ آئی لینڈ کی ایک لبنانی نژاد ڈاکٹر اور اسسٹنٹ پروفیسر، راشا علاویہ، کو اس مہینے امریکہ میں دوبارہ داخل ہونے سے روک کر لبنان واپس بھیج دیا گیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے فون میں حزب اللہ سے "ہمدردی” رکھنے والی تصاویر موجود تھیں۔ علاویہ نے کہا کہ وہ اس گروہ کی حمایتی نہیں ہیں، بلکہ ان کے مقتول رہنما کا مذہبی طور پر احترام کرتی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے نیویارک کی کارنیل یونیورسٹی، واشنگٹن کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی، اور الاباما یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

