مزاحمتی محور کے رہنماؤں نے القدس پلیٹ فارم پر فلسطین کی حمایت کے عزم کا اظہار کیا اور یکجہتی و استقامت کے ذریعے آزادی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے بدھ کے روز القدس پلیٹ فارم پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کا مستقبل مزاحمت سے وابستہ ہے، اور وہ اپنی فتح پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت اس وقت معرکے میں مصروف ہے، لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
انہوں نے عالمی یوم القدس کے موقع پر منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قابض افواج جنگ میں مہارت رکھنے کے بجائے نسل کشی میں ماہر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل 75 برس کے قبضے کے باوجود ایک انچ زمین کو بھی قانونی حیثیت دلوانے میں ناکام رہا ہے اور آپریشن طوفان الاقصیٰ نے ثابت کر دیا کہ صیہونی ریاست کو وجودی بحران کا سامنا ہے۔
شیخ قاسم نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مزاحمت کی لازوال مثال قائم کی ہے اور القدس کی آزادی کی راہ میں عظیم قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی منصوبے کا مقصد خطے کو تقسیم کر کے مشرق وسطیٰ پر تسلط قائم کرنا اور فلسطینیوں کو مکمل طور پر بے دخل کرنا ہے، تاہم مزاحمتی قوتیں اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے بھی القدس پلیٹ فارم پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران مزاحمت کی حمایت میں ثابت قدم ہے اور اس کی مدد جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن طوفان الاقصیٰ نے میدان جنگ میں یکجہتی کی ایک نئی حکمت عملی متعارف کرائی ہے، اور مزاحمت روز بروز مضبوط ہو رہی ہے۔
یمنی انصار اللہ تحریک کے سربراہ سید عبدالملک الحوثی نے بھی فلسطینی عوام کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی جارحیت کے باوجود یمن اپنی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اسی طرح حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے کہا کہ مزاحمت نے سیاسی اور عسکری سطح پر اپنی حکمت عملی کو ثابت کر دیا ہے اور اسرائیلی قابض ریاست کو امت مسلمہ کا اصل دشمن بے نقاب کیا ہے۔
فلسطینی اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ نے بھی واضح کیا کہ مزاحمتی قوتوں کا اتحاد ہر قربانی کے باوجود مستحکم رہے گا اور اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ان کا حتمی ہدف ہے۔
مقبوضہ فلسطین میں سرگرم عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین (PFLP) کے نائب سیکرٹری جنرل جمیل مزہر نے کہا کہ اسرائیل بھوک اور محاصرے کے ذریعے وہ کچھ حاصل نہیں کر سکتا جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان، یمن، عراق اور ایران نے فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا ہے کہ فلسطین اپنی اس جدوجہد میں تنہا نہیں ہے۔

