جمعہ, فروری 13, 2026
ہوممضامینبین الاقوامی یوم القدس: اسرائیلی نسل کشی کے خاتمے اور فلسطین کی...

بین الاقوامی یوم القدس: اسرائیلی نسل کشی کے خاتمے اور فلسطین کی آزادی کی عالمی تحریک
ب

تحریر: اقبال جسات

جب دنیا بھر کے ممالک رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو بین الاقوامی یوم القدس منانے کی تیاری کر رہے ہیں، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی ایک بار پھر نکبہ (تباہی) کے خوفناک مناظر کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہودی آبادکاروں پر مشتمل صیہونی استعماری حکومت کے جنگی مجرموں کی بے رحمی، جو امریکی انتظامیہ کی اندھی حمایت سے مزید سنگدل ہو چکی ہے، اس سالانہ تقریب میں عوامی غم و غصے کا مرکز بننے والی ہے۔

یوم القدس کا آغاز اسلامی جمہوریہ ایران میں امام خمینیؒ کی انقلابی قیادت کے تحت ہوا، جنہوں نے انسانی حقوق اور شہری حقوق کے کارکنوں کو متحرک کیا تاکہ رمضان کے آخری جمعہ کو فلسطین کے نام کیا جائے۔

چالیس سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود، اس دن کی یاد منانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فرقہ واریت، جو تاریخی طور پر برطانوی سامراج کی "تقسیم کرو اور حکومت کرو” پالیسی کا ہتھیار رہی ہے، ایرانی قیادت اور عوام کی دور اندیشی کے باعث نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔

یہ دن 1979 میں ایران میں امریکہ نواز شاہی حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد شروع ہوا اور تب سے فلسطین کی آزادی کی تحریک کے لیے عالمی سطح پر غیر معمولی یکجہتی کا مظہر بن چکا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، یوم القدس ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک مضبوط ستون بھی بن چکا ہے—یہی وجہ ہے کہ یہ دن اسرائیل کے لیے ہمیشہ غصے اور فلسطینی عوام اور ان کے سچے حامیوں کے لیے عزت و احترام کا باعث رہا ہے۔

ایران کی فلسطین سے وابستگی

یہ کم ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ ایران میں پہلوی شاہی حکومت کے دور میں امریکی سلطنت کو مکمل کنٹرول حاصل تھا۔ ایک کٹھ پتلی بادشاہ کے ذریعے، امریکہ کو ایران میں مکمل استثنیٰ حاصل تھا، جبکہ عام ایرانیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا تھا۔

اسی جبر کے خلاف امام خمینیؒ نے قیام کیا اور ایک ایسی انقلابی تحریک کی قیادت کی، جس نے اسلامی انقلاب کی راہ ہموار کی۔

دوسری طرف، فلسطینیوں کو صیہونی قبضے اور دہشت گردی کے ایسے خوفناک حالات کا سامنا ہے، جو نہ صرف پہلوی حکومت سے بدتر ہیں بلکہ جنوبی افریقہ کے سابقہ نسل پرست حکومت سے بھی زیادہ وحشیانہ ہیں۔

ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد—جب حماس ابھی قائم نہیں ہوئی تھی—فلسطینی مزاحمتی تحریک کی قیادت یاسر عرفات اور ان کی تنظیم پی ایل او کے ہاتھ میں تھی۔

ایک تاریخی لمحہ وہ تھا جب ایران میں اسلامی حکومت کے قیام کے ابتدائی دنوں میں، امام خمینیؒ اور یاسر عرفات کی ملاقات ہوئی۔

ایران کی انقلابی قیادت نے تہران میں اسرائیلی سفارتخانے کو بند کر کے اس عمارت کو فلسطینی عوام کے سپرد کر دیا، جہاں فلسطینی پرچم سربلند کیا گیا۔

یہ صرف ایک علامتی اقدام نہیں تھا۔ ایران نے اسی پالیسی کے تحت جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت سے بھی مکمل تعلقات منقطع کر دیے اور بیت المقدس (القدس) کی آزادی کا راستہ چُنا۔

عرب دنیا کی شرمناک خاموشی

یہ ایران کی استقامت کے بالکل برعکس ہے کہ عرب دنیا کے بیشتر حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جبکہ فلسطینی عوام امریکی-اسرائیلی نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔

فلسطینی مزاحمتی تنظیمیں، جن میں حماس، اسلامی جہاد اور عراق، لبنان، یمن میں موجود مزاحمتی اتحاد شامل ہیں، ایران کی بے لوث حمایت کے مقروض ہیں، جو ہر قسم کی قربانی کے باوجود اپنی وابستگی سے پیچھے نہیں ہٹا۔

یوم القدس محض تقریروں اور تقاریب تک محدود ایک دن نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک ہے جس نے نوجوان نسل کو متاثر کیا ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے صیہونی استعمار کے خلاف جدوجہد کریں۔

نیلسن منڈیلا کے پوتے کی صیہونیت کے خلاف گرجدار آواز

نیلسن منڈیلا کے پوتے، زویلی ویلی منڈیلا، جو جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں، نے چند روز قبل یمن میں ایک یکجہتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

"اس سال ہم 46ویں یوم القدس کے لیے متحرک ہو رہے ہیں۔ غزہ اور پورے مقبوضہ فلسطین، لبنان اور شام میں جاری نسل کشی کے باوجود، ہم امن و انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جس طرح ہم نے سفید فام اقلیت کی نسل پرست حکمرانی کے خلاف اپنی آزادی کی جنگ لڑی، اسی طرح ہمیں آج چند مغربی استعماری طاقتوں کے ظلم کے خلاف بھی لڑنا ہوگا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے دیے گئے ہتھیاروں اور مالی امداد سے، ٹرمپ اور نیتن یاہو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے منصوبے میں شریک رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

"یہ شیطانی، غیر اخلاقی، نفرت انگیز اور مجرمانہ صیہونی ریاست نہ تو فلسطینی عوام کی مزاحمت کو دبا سکتی ہے اور نہ ہی ان کے دلوں میں آزادی کی امید کو بجھا سکتی ہے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین